تیلدار اجناس کی پیداوارمیں فروغ کے منصوبہ کے تحت کاشتکاروں کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے،محکمہ زراعت

لاہور (لائیوسٹاک پاکستان) محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ تیلدار اجناس کی پیداوارمیں فروغ کے قومی منصوبہ کے تحت رجسٹرڈ کاشتکاروں کو سورج مکھی کی کاشت پر5ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ترجمان کے مطابق پاکستان ہر سال300 ارب روپے کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے جو ملکی معیشت پر ایک بوجھ ہے۔اس لئے حکومت پنجاب تیلدار اجناس کی پیداوار میں فروغ کے قومی منصوبہ کے تحت تیلدار اجناس کا زیرِ کاشت رقبہ بڑھانے کیلئے سورج مکھی کی کاشت پر5ہزار روپے فی ایکڑ اور زرعی آلات پر50 فیصد سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔

علاوہ ازیں رجسٹرڈ کاشتکاروں کو جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کیلئے سورج مکھی کے نمائشی پلاٹ بھی لگائے جا رہے ہیں جس کے لئے زرعی مداخل کی مد میں کاشتکاروں کو15ہزار روپے فی ایکڑ مالی اعانت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ خوردنی تیل کی پیداوار کو بڑھایا اور ملکی درآمدی بل میں کمی لائی جا سکے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ جنوبی پنجاب کے اضلاع ڈیرہ غازی خان،راجن پور،بہاولپور،رحیم یارخان، ملتان، وہاڑی،بہاولنگر،مظفرگڑھ،لیہ،لودھراں،بھکر اور خانیوال کے کاشتکار سورج مکھی کی کاشت 31جنوری تک مکمل کر سکتے ہیں جبکہ وسطی پنجاب کے اضلاع میانوالی،سرگودھا،خوشاب،جھنگ، ساہیوال، اوکاڑہ،پاکپتن، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ،چنیوٹ،سیالکوٹ،گوجرانوالا، لاہور، منڈی بہاالدین،حافظ آباد،قصور،شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت یکم تا 31جنوری تک مقرر کیا گیا ہے۔

اسی طرح سورج مکھی کی کاشت کے تیسرے مرحلے میں شمالی پنجاب کے اضلاع ناروال، اٹک، روالپنڈی، گجرات،جہلم اور چکوال میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت یکم جنوری تا15 فروری تک مقرر کیا گیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ کاشتکار سورج مکھی کی کاشت کے لئے اچھے اگائو والے صاف ستھرے دوغلی(ہائبرڈ) اقسام کے بیج کی فی ایکڑ مقدار 2 کلوگرام رکھیں جبکہ بیج کے اگائو کی شرح90 فیصد ہونی چاہیے اور پودوں کی تعداد22 سے23 ہزار فی ایکڑ ہونی چاہیے۔

محکمہ زراعت پنجاب کی سفارش کردہ سورج مکھی کی ہائبرڈ اقسام میں ہائی سن- 33،ٹی- 40318،ایگورا4، ایس 278-،این کے آر منی،یو ایس 666،یو ایس 444 پارسن3-،آکسن 5270-،ایچ ایس ایف 350-اے،اوریسن 648-،اویسن 516-،اوریسن 675-،اوریسن 701-،رائینااور سن7- شامل ہیں۔ترجمان نے کہاکہ سورج مکھی کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے موزوں وقت پر کاشت انتہائی ضروری ہے کیونکہ تاخیر سے کاشت کی صورت میں نہ صرف سورج مکھی کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ تیل کی مقدارمیں بھی کمی ہوتی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ سورج مکھی کی بہاریہ کاشت زیادہ پیداوار دیتی ہے لہذا کاشتکاربہاریہ کاشت کو ترجیح دیں۔