اب پلاسٹک کچرے کو زراعت کے لیے مفید اجزا میں بدلا جاسکتا ہے

ریور سائیڈ ، امریکہ: پلاسٹک کے کوڑے نے سیارہ زمین کو کئی مسائل سے دوچار کر رکھا ہے۔ اب جامعہ کیلیفورنیا، ریورسائڈ کے ماہرین نے دنیا میں سالانہ جمع ہونے والے کروڑوں ٹن پلاسٹک کا ایک انسان دوست مصرف ڈھونڈ نکالا ہے۔ بصورتِ دیگر یہ دریاؤں اور سمندروں میں جاکر انسان اور آبی حیات کے لیے ایک جان لیوا شے بن رہا ہے۔

کیمیائی اور ماحولیاتی انجینیئرنگ سے وابستہ نائب پروفیسر، کینڈِس لیزلی عبدالعزیز اور ساتھیوں نے ایک ٹیکنالوجی سے انتہائی نفوذ پذیر (پورس( چارکول یا سوختہ مادہ بنایا ہے جس کے ایک گرام کا رقبہ 400 مربع میٹر تک ہوسکتا ہے۔

یہ چارکول کاربن جمع کرتا ہے اور اسے کھاد یا مٹی میں ملاکر مٹی میں پانی تھامنے کی صلاحیت میں اضافہ کرسکتا ہے۔ پھر قدرتی طور پر انحطاطی عمل سے گزرکر یہ مصنوعی کھاد میں ڈھل جاتا ہے۔ تاہم اسے براہِ راست زراعت میں استعمال کرنےکے لیے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

سائنسدانوں نے دو طرح کے عام پلاسٹک کو مکئی کی باقیات میں ملایا جن میں مکئی کے ریشے اور پتے وغیرہ شامل تھے۔ پھر اس مجموعے کو انتہائی دباؤ والے گرم پانی میں پکایا گیا جسے تکنیکی زبان میں ’ہائیڈروتھرمل کاربنائزیشن‘ کہا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس میں پیکنگ مٹیریئل اسٹائروفوم بھی ملایا گیا ہے۔

اس طرح حاصل ہونے والا چارکول غیرمعمولی سطح (سرفیس ایریا) رکھتا ہے اور اسے کھاد میں استعمال کیا جاسکتا ہے جو زراعت کے لیے ایک موزوں شے بن سکتا ہے۔