زرعی پیداوار میں پنجاب کا حصہ کپاس میں 83فیصد،گندم میں 80فیصد، چاول میں 97 فیصد،کماد میں 51 فیصد اور آم میں 66 فیصد تک پہنچ گیا

فیصل آباد(لائیوسٹاک پاکستان) پاکستان کی زراعت کی کل پیداوار میں صوبہ پنجاب کے زرعی شعبے کا حصہ کپاس میں 83فیصد،گندم میں 80فیصد، چاول میں 97 فیصد،کماد میں 51 فیصد اورآم میں 66 فیصد تک پہنچ گیا ہے جس میں مزید اضافہ کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور صوبہ کی تاریخ میں پہلی بار زرعی پالیسی تشکیل دے کر اس پر عملدر آمد کیاجارہاہے جبکہ زراعت کے شعبے کی اہمیت کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے20 سے زائدورکنگ گروپ بنائے گئے ہیں جن کو فصلوں کی فی ایکڑپیداوا راور زرعی برآمدات میں اضافہ اور تیلدار اجناس کے زیر کاشت رقبہ اور پیداوار میں اضافہ کیلئے جامع منصوبہ بندی کا ٹاسک دیا گیا ہے نیزاس ورکنگ گروپ کی سفارشات کی روشنی میں وفاقی حکومت کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت زراعت کی ترقی کیلئے 300ارب روپے سے زیادہ کے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔

محکمہ زراعت کے ترجمان نے بتایاکہ اس پروگرام کے تحت گندم،چاول،کپاس،مکئی،گنے اور تیلدار اجناس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے علاوہ آبپاش کھالوں کی اصلاح، بارانی علاقوں میں منی ڈیمز کے کمانڈ ایریا کو بڑھانے اور کاشتکاروں کوسبسڈی کی براہ راست اور شفاف فراہمی کیلئے کسان دوست کارڈکے اجرا کے منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ صوبہ پنجاب میں ان منصوبوں پر عملدرآمدکیلئے اربوں روپے کی خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے جس کے مفید نتائج حاصل ہورہے ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ ہماری معیشت قومی سطح پر صنعت، زراعت اور خدمات پر مبنی تین بڑے حصوں پر محیط ہے جبکہ معاشی اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا تقریباً 20فیصد زراعت کے شعبے سے حاصل ہوتاہے جس کیلئے پاکستان کی کل لیبر فورس کا 48فیصد حصہ بھی زرعی عمل میں مصروف کار ہے۔انہوں نے بتایاکہ اسی طرح پاکستان کی کل برآمدات میں سے 80فیصد مصنوعات کسی نہ کسی طرح زرعی سرگرمیوں کانتیجہ ہیں نیزپاکستان کے کل رقبے کا57فیصد حصہ کاشت کاری کے قابل ہے جس میں سے کل مزروعہ رقبے کا 69فیصد حصہ صوبہ پنجاب میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے