اپیل ،صدر ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان

صدر ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان نے چاروں صوبوں کے متعلقہ محکمہ لائیوسٹاک کے منسٹرز اور سیکرٹریز,ڈی جیز،نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ ، کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان،فوڈ اتھارٹیز سمیت اعلیٰ عہدوں پر فائز ملک کی تمام زرعی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز،ڈی وی ایم ڈاکٹرز اور پاکستان ویٹرینری میڈیکل ایسوسی ایشن ، پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل، پی وی ایم اے سندھ، پی وی ایم کے کے پی کے، پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن پاکستان، ڈیری ٹیکنالوجسٹ،طلباءاور میڈیا سے وابستہ ڈیری سیکٹر کے تمام لوگ ”تازہ دودھ“ کے خلاف چلائی گئی مہم پر یونیورسٹی یا جس ادارے سے وابستہ ہیں اس کی پالیسی کو دیکھیں اور پالیسی میکرز کو تازہ دودھ کی افادیت اور اہمیت سے آگاہ کریں اور ہماری ”ایگریکلچر یونیورسٹیز اور محکمہ لائیو سٹاک کے سیکرٹریز اور ڈی جی“ اس مہم کے خلاف موقف جاری کریں ورنہ آپ کے بچوں پر ڈبہ بند دودھ نما مائع کو مسلط کردیا جائے گا اور 160 روپیہ فی لیٹر سفید مائع پینے پر مجبور ہوں گے آپ سب اپنی جانب سے آپ اپنا کوئی بیان میڈیا پر جاری کریں اور متعلقہ ادارے قانون کے مطابق ان کے خلاف ایکشن لیں۔

تاکہ ڈیری فارمرز کے لئے آسانی ہو اور آپ کے بیان کو ہم ہر فورم پر استعمال کرسکیں۔ بہت ضروری ہے کہ ہم سب اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے اختیارات اور عہدوں کے مطابق عوام الناس کے حقوق کی ادائیگی بروقت کریں ۔ اگر آپ اس مافیا کا کچھ نہیں کرسکتے تو صرف شیئر کردیں تاکہ ہماری آواز بلند ہوڈبہ مافیا کا نیا طریقہ کار مسیحا برائے فروخت وطن عزیز کے مسیحا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت مسیحائی کے نام پر موت کی تقسیم کا منصوبہ سپریم کورٹ میں ڈبہ بند سفید مائع کے خلاف آئے شواہد چیف جسٹس کے ریمارکس کے باوجود زہر کو اچھا اور دودھ کو گندا ثابت کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔پاکستان کے تمام میڈیا ہاﺅسز بھی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) چند مفاد پرست پوری ڈاکٹرز کمیونٹی کی نمائندگی کے نام پر ڈبہ مافیا کے ساتھی بن کر زہر نما سفید مائع کی تشہیر میں مصروف ہیں۔یہی حقیقت ہے کہ 30 سال میں اربوں ڈالرز کی تشہیر سے پاکستان کے 14 کروڑ عوام میں سے صرف 5 فیصد الیٹ کلاس کو ہی متاثر کرسکے جو یہ زہر نما سفید مائع پیتے ہیں اور نیا حربہ مسیحائی کے نام پر دھوکے کی اس سے گھٹیا ترین مثال کوئی نہ ہوگی کہ چند روپوں کے عیوض پورے پاکستان کے مسیحاﺅں کو چند مفاد پرست گھٹیا پروپیگنڈہ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے آلہ کار کے طور پر پاکستان کے تمام ڈاکٹرز کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے نام پر بدنام کیا جارہا ہے۔اب تو مسیحاﺅں پر سے بھی بھروسہ ختم ہوگیا ہے کہ چند ٹکوں کے عیوض چند لوگوں نے پورے پیشے کو بدنام کردیا گیا شاید ڈاکٹرز میں کوئی تو اتنا غیرت مند ہوگا جو اس کی مذمت کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے