نایاب ہجرتی پرندوں کا بے دریغ شکار

تحریر : یاسرچغتائی

 انسان ہوں ، جانور ہوں ، یا پرندے کوئی بھی مخلوق جب کسی بڑی آزمائش میں پڑ جائے تو اپنی جان کی بقاء ، سختیوں سے بچنے اور خوشحال زندگی کی تلاش میں ہجرت کا سہارا لیتی ہے، 

جیسے جنگ زدہ علاقوں میں انسانوں کو زندگی کی غیر یقینی ہو تو وہ کسی محفوظ مقام کی جانب نقل مکانی کر جاتے ہیں ، ٹھیک اسی طرح موسمی سختیوں اور زندگی کے خطرات کو دیکھتے ہوئے جانور، آبی مخلوقات اور بالخصوص پرندے بھی محفوظ مقامات کا رخ کر لیتے ہیں، جنکو عام زبان میں ’’ہجرتی پرندے‘‘کہا جاتا ہے۔ وطن عزیز پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہر سال ہجرتی پرندوں کی کئی نسلیں آ کر پناہ لیتی ہیں ، محکمہ جنگلات کی ایک رپورٹ کے مطابق اندازاً ہر سال پاکستان میں 10 لاکھ ہجرتی پرندے آتے ہیں۔ جو چترال کے پہاڑوں سے لے کر سندھ کے دریاؤں تک ، بلوچستان کی جھیلوں سے لے کر پنجاب کے میدانی علاقوں تک ، ہر جگہ اپنے ماحول کی مناسبت سے سہارا لیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہزاروں میل ہجرت کر کے آنے والے ان پرندوں کی تواضع بندوقوں سے کی جاتی ہے ، انکا استقبال ایسی بے دردی سے ہوگا وہ ان معصوم جانوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا، چنانچہ ہجرتی پرندوں کے بے دریغ شکار سے نہ صرف ان پرندوں کے روٹھ جانے کا خطرہ ہے ، بلکہ نایاب نسلوں کے معدوم ہو جانے کا بھی خدشہ ہے۔
نایاب ہجرتی پرندے
یوں تو ہجرتی پرندوں کی آمد پاکستان کے چاروں صوبوں میں ہوتی ہے ، مگر صوبہ سندھ اور بلوچستان اس حوالے سے اہم جانے جاتے ہیں، صوبہ سندھ کے محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق 50 سے زائد اقسام کے پرندے سردی کے موسم میں سندھ کا رخ کرتے ہیں، جو کہ دور دراز سائبریا سے آتے ہیں ، جن میں زیادہ تر نسلیں جھیلوں یا دریاوں کے کنارے رہنا پسند کرتی ہیں۔ ان میں چیکھلو، نیرگی، ڈگھوش، آڑی، مرغابی، کونج، گریبس، گیز، ڈارٹرز، بگلا، ایریٹس، اسٹورکس، آئبائیس، اسپونبلز اور دیگر شامل ہیں۔ یہ پرندے کراچی سمیت سندھ کے 8 اضلاع خصوصاً بدین، سجاول اور ٹھٹھہ میں 11 جھیلوں کے کنارے پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ ضلع بدین کی ساحلی پٹی کے زیرو پوائنٹ، نریڑی جھیل، رامسر سائیٹ ہالیجی جھیل ٹھٹہ، گاڑھو جھیل، اسی طرح کراچی کے ساحلی علاقوں مبارک ولیج، ماڑی پور، ہاکس بے، ابراہیم حیدری سے ریڑھی گوٹھ کے ساحل تک اور ڈینگی اور بھنڈار سمیت دیگر جزائر میں یہ ہجرت کرنے والے پرندے خاصی تعداد میں نظر آتے ہیں۔

اسی طرح بلوچستان کی بات کی جائے تو وہاں بھی ہجرتی پرندوں کی درجنوں اقسام آتی ہیں، مگر کونج ایک ایسا نایاب مہمان پرندہ ہے جو زمانۂ قدیم سے بلوچستان کا رخ کر رہا ہے، متعدد بلوچی شاعروں نے بھی اس پرندے کی خوبصورتی کی وجہ سے اسکا نام اپنے اشعار میں استعمال کیا۔ بلوچستان کے گرم علاقوں میں یہ پرندہ براستہ ژوب داخل ہوتے ہیں اور پھر صوبہ بھر میں پھیل جاتے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے ان پرندوں کے روٹ کو ’’انڈس فلائی وے گرین روٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جبکہ رامسر کنونشن کے تحت بلوچستان کے پانچ آب گاہوں سٹولا آئی لینڈ، حب ڈیم،جیوانی، میانی ہور، اوماڑہ کے ساحل کو ہجرتی پرندوں کیلئے محفوظ قرار ہیں۔ اسی طرح پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی متعدد ہجرتی پرندے رخ کرتے ہیں، بلوچستان سے ملحقہ جنوبی پنجاب کے علاقوں میں آکر بسنے والا تلور ایک نایاب نسل کا پرندہ ہے ، جبکہ مختلف علاقوں میں بسنے والا عقاب بھی نایاب ہے، اسی طرح خیبر پختونخوا میں فروری سے اپریل تک اور پھر ستمبر سے دسمبر تک مختلف اقسام کی نایاب بطخیں رُخ کرتی ہیں، یا پہاڑی علاقوں میں بسنے والی نایاب چڑیا، یا درختوں میں چہچہانے والے پرندے، پرندوں کی یہ تمام نایاب نسلیں ہمارے لیے تحفے سے کم نہیں ، لیکن شاید ہم ان تحفوں کی قدر کو بھلا چکے ہیں۔
پرندوں کا بے دریغ شکار
افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں نایاب پرندوں کا شکار بے دردی سے کیا جاتا ہے، جیسا کہ بتایا گیا کہ جنوبی پنجاب اور بلوچستان تلور سمیت دیگر نقلِ مکانی کرنے والے نایاب پرندوں کا قدرتی مسکن ہے، جہاں یہ پرندے لگ بھگ 5ماہ گزارتے ہیں۔ پنجاب محکمہ وائلڈ لائف کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر برس 55ہزار تلور پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کا رُخ کرتے ہیں جہاں وہ سکونت اختیار کر کے اپنی نسل کی افزائش کرتے ہیں۔ تاہم، موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی سعودی عرب، متّحدہ عرب امارات اور قطر کے شیّوخ بھی تلور کے شکار کیلئے بلوچستان پہنچ جاتے ہیں۔یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے قائم بین الاقوامی ادارے’’ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر‘‘ نے پہلے ہی سے تلور کو معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے، اسی بنا پر 2015ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس نایاب پرندے کے شکار پر پابندی بھی عائد کی تھی، تاہم پھر یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

اور بعد ازاں تلور کے شکار کو لائسنس کیساتھ مشروط کر دیا گیا۔ 2015 ء کا واقعہ ہے کہ ایک عرب شیخ نے چاغی میں اپنی 21روزہ مہم کے دوران 2100تلور شکار کیے تھے، جس کے بعد اس نایاب پرندے کو بچانے کیلئے آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ اسی طرح صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں 2020 ء میں ایک مقامی شخص نے 965 یورویشین چڑیوں کا شکار کیا، جس پر وہ افسوس سے زیادہ فخر محسوس کررہا تھا۔ پاکستان میں پرندوں پر کام کرنے والے ایک نجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق گزشتہ 2 برسوں میں 220 اقسام کے 10 لاکھ سے زائد پرندوں نے پاکستانی علاقوں کا رخ کیا، تاہم موسمی حالات اور دنیا میں آتی دیگر تبدیلیوں کے باعث اب یہ تعداد وقت کے ساتھ ساتھ گھٹتی جا رہی ہے۔ جس کی وجوہات میں بارشوں کی کمی ، خشک سالی کیساتھ ساتھ شکار کا خوف بھی ہو سکتا ہے۔
غیر قانونی شکارمنافع بخش کاروبار
ہجرتی پرندوں کا شکار پاکستان میں ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے، جیسے دیکھا جائے تو نایاب پرندے ڈگھوش کا گوشت 1500روپے، نیرگی 800 روپے، چیخلہ 400 روپے، کھیڑانٹی300 روپے اور آڑی کو بھی 300 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے، جس میں سب سے زیادہ لالچی ماہی گیردکھائی دیتے ہیں ، جو ایک یا دو دن نہیں بلکہ کئی کئی ماہ تک باقاعدہ ان پرندوں کا غیر قانونی شکار کرتے ہیں، جنکا خود کہنا ہے کہ ان پرندوں کے شکار میں بے تحاشا پیسہ ہے۔ اسی طرح بڑے لیول پر ہجرتی پرندوں کا غیر قانونی شکار کرنے والے گروہ کونجیں اور دیگر نایاب نسل فروخت کرکے ماہانہ لاکھوں روپے آسانی سے کما لیتے ہیں۔ ایک کونج 7 ہزار روپے (44 امریکی ڈالر) سے لے کر 20 لاکھ روپے (12 ہزار 500 امریکی ڈالر) تک کما کر دے سکتی ہے۔کھلی منڈی میں اس نایاب جنگلی حیات کی قیمت لوگوں کو اس غیر قانونی عمل کی طرف راغب کررہی ہے جو پہلے سے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے، اسی طرح اکتوبر کے مہینے سے بلوچستان میں فالکن شاہین کی آمد شروع ہوجاتی ہے جو بہت قیمتی پرندہ ہے، مقامی افراد کے ساتھ غیر مقامی بھی اس کا شکار کرنے کے بعد عرب باشندوں کو مہنگے داموں فروخت کر دیتے ہیں، 2020 ء میں بلوچستان میں کارروائی کے ذریعے 3 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن سے 15 کونجیں برآمد کی گئیں اور شکار میں استعمال ہونے والا خاطر خواہ سامان بھی قبضے میں لیا گیا۔

اسی طرح صوبے پنجاب میں ہر سال یکم اکتوبر سے 31 مارچ تک صرف مختلف اقسام کی بطخوں، مرغابیوں، فیزنٹ کے شکار کی اجازت دی جاتی ہے، مگر کئی لوگ اس اجازت کا غلط استعمال کرتے ہوئے نایاب پرندے بھی مار لیتے ہیں اور انھیں بیچتے ہیں۔ جیسا کہ عقاب کا شکار کیا جاتا ہے ، اس وقت ایک عام عقاب 3لاکھ روپے میں، جب کہ اعلیٰ نسل کا باز 1.5سے 3کروڑ روپے میں بھی فروخت ہو رہا ہے۔اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ پابندی کے باوجود پاکستان میں پرندوں کی غیر قانونی تجارت کا حجم 10ارب روپے سالانہ سے تجاوز کر گیا ہے۔
کیا تمام شکار غیر قانونی ہوتے ہیں ؟
پاکستان میں پرندوں کیساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس پر ہر ذی شعور کے ذہن میں یہ سوال لازمی آتا ہوگا کہ ان پرندوں کا شکار کرنے والوں کو روکا کیوں نہیں جاتا؟ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ لیکن ہمارے لوگ یہ نہیں جانتے کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں شکار صرف و صرف غیر قانونی نہیں ہے بلکہ قانونی شکار بھی ہوتا ہے، قانونی شکار یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے محکمے سے لائسنس لیں، پھر آپ کے پاس اسلحہ کا لائسنس ہونا چاہیے۔ اس کے بعد محکمہ صرف ان پرندوں اور جانوروں کے شکار کی اجازت دیتا ہے جو وافر تعداد میں موجود ہیں، تاہم اس میں بھی کئی شرائط رکھی گئی ہیں۔ ایک شخص ایک دن میں مقررہ تعداد کے مطابق ہی پرندوں کا شکار کرسکتا ہے۔ مرغابیوں کی حد 10 رکھی گئی ہے۔

اسی طرح ایک شکاری ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 6 تیتر شکار کرسکتا ہے۔ فاختہ، لالیاں اور دیگر پرندوں کی حد ان کے قدرتی ماحول میں دستیابی کے حساب سے مقرر ہے۔ اب اگر کوئی شکاری قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے شکار کرتا ہے تو اس کو تو نہیں روکا جاسکتا، لیکن کئی لوگ مقررہ حد سے تجاوز کرجاتے ہیں تو انکے خلاف کارروائی کرنا وقت کی اولین ضرروت ہے۔جیسے حال ہی میں سوشل میڈیا پر شوخی کرنے والا خیبرپختونخوا کا ایک نوجوان جس نے 40 عدد خاکی تیتر، 8 عدد کالے تیتر، 10 عدد چکور اور اور 6 عدد سسیاں شکارکی تھیں ، اسے اگلے ہی دن حوالات کی ہوا کھانی پڑی۔
غیر قانونی شکار میں اضافہ
کیوں ہو رہا ہے ؟
یہ سوال اہم ہے کہ ہمارے ہاں غیر قانونی شکار میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ یقیناً اس سے کئی اسباب جڑے ہونگے، عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن کے دوران جنوبی ایشائی ممالک میں شکار میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، اسکی وجوہات یہ بتائی گئیں ایک تو لوگ لاک ڈاؤنز کے باعث فارغ تھے ، جس کی وجہ سے شکار میں غیر معمولی اضافہ ہوا، اور یقینا سب لوگوں کے پاس شکار کا لائسنس نہیں تھا، اسلئے غیر قانونی شکار بھی تیزی سے بڑھا۔ اس میں پاکستان ، بھارت اور نیپال سر فہرست ممالک میں سے تھے، دوسری وجہ یہ بتائی گئی کہ لاک ڈاؤن کے دوران شکار کی مانیٹرنگ کرنے والے اداروں میں سٹاف کی کمی تھی ، جس کا فائدہ جنوبی ایشیائی لوگوں نے خوب اٹھایا اور غیر قانونی شکار کو پروان چڑھایا، اس سے ہمارے لوگوں کی اخلاقی اقدار کی پستی کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

اسی طرح پاکستان میں شکار بڑھنے کی ایک بڑی وجہ شعبدہ بازی بھی ہے، لوگ سوشل میڈیا پر شوخی بگھارنے کیلئے بھی بے جا شکار کرتے ہیں ، اور پھر ہفتوں تک تصاویر لگاتے رہتے ہیں، تیسری چیز غیر قانونی شکار پر سزاؤں میں نرمی ہے، حال ہی میں محکمہ وائلڈ لائف نے غیر قانونی شکار پر سزائیں بڑھانے کی تجاویز دی تھیں جو کہ خؤش آئند عمل ہے، یقینا ان لوگوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے ہی نمٹنا ہوگا۔آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ نایاب نسل کے پرندوں کا بے دریغ اور بالخصوص غیر قانونی شکار کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ پرندوں کی معدوم ہوتی نسلوں خصوصاً مہمان پرندوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ کیونکہ جس بے دردی سے ہمارے ہاں ان پرندوں کا شکار جاری ہے وہ دن دور نہیں لگتا جب پاکستانی علاقوں سے کونج، تلور، شاہین نظر آنا بند ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے