پرندوں کی چہچہاہٹ ذہنی صحت کو بہتر کر سکتی ہے، تحقیق

ویب ڈیسک:سائنس دانوں کے مطابق پرندوں کو دیکھنا یا ان کی چہچہاہٹ سننا ذہنی صحت کو بہتر کر سکتاہےاور اس کے اثرات آٹھ گھنٹے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج دنیا بھر کے لوگوں پر مبنی ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ڈپریشن میں مبتلا تھے۔محققین کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ پرندے ذہنی صحت کے مسائل میں مبتلا افراد میں بہتری کے لیے مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کنگز کالج لندن کے ایک پروفیسر اور تحقیق کے سینئر مصنف اینڈریا میشیلی کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق پرندوں کے لیے حیاتیاتی تنوع کے حوالے سے جگہیں بنانے اور ان کی نشو نما کرنے کے متعلق شواہد مہیا کرتی ہے، کیوں کہ اس کا ہماری ذہنی صحت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کے نتائج ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جن سے لوگوں کے پرندوں کے ساتھ تجربہ ہونے کے مواقع میں اضافہ ہوا بالخصوص ان لوگوں کے لیے جو ڈپریشن جیسی ذہنی کیفیت میں مبتلا ہوں۔

تحقیق کے لیے محققین نے اربن مائنڈ ایپ سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کا استعمال کیا۔ دنیا بھر سے 1000 ہزار سے زائد افراد نے اپریل 2018 سے اکتوبر 2021 کے درمیان ہونے والے سروے مکمل کیے۔

شرکاء سے دن میں تین بار پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ پرندوں کو دیکھ یا سن سکتے ہیں اور ساتھ ہی ان سے ذہنی صحت کے حوالے سے بھی سوالات پوچھے جاتے۔محققین کی ٹیم کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ جن میں ذہنی صحت کے مسائل موجود تھے ان میں پرندوں کو دیکھنے یا سننے کا تعلق ان کی ذہنی صحت کی بہتری سے تھا۔