وفاقی کابینہ اجلاس:سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں25 فیصد اضافےکی منظوری

اسلام آباد: (نمائندہ خصوصی، لائیوسٹاک پاکستان) وفاقی کابینہ نے وفاقی حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے، یکم مارچ سے تمام معاشی سرگرمیوں کو مکمل طور پر بحال کرنے اور مختلف تقرریوں کی منظوری دیدی ہے۔

کابینہ نے وفاقی حکومت کے مختلف محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں پائے جانے والے فرق کو کم کرنے اورسرکاری ملازمین کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے 2017کی بنیادی تنخواہوں پر پچیس فیصد اضافے (Disparity Reduction Allowance) کی منظوری دی۔اس اضافے کا اطلاق گریڈ ایک سے انیس تک ہوگا اور یہ اضافہ یکم مارچ سے نافذ العمل ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومتوں کو بھی یہ ہدایت کی جائے گی کہ وہ بھی اپنے محکموں میں تنخواہوں میں پائے جانے والے فرق کو کم کرنے کے حوالے سے اقدامات لیں۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی طرز پر ایک گریڈ سے سولہ گریڈ تک کو ٹائم سکیل پروموشن دی جا رہی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس کو یکم جولائی سے بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جا رہا ہے جس کا اصل فائدہ پینشنرز کو میسر آئے گا۔تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے۔

وزیرِ اعظم نے سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ خسارہ کرنے والے تمام سرکاری اداروں اور اس خسارے کا حجم عوام کے سامنے رکھا جائے تاکہ عوام کو ملکی معاملات کا مکمل علم ہو۔اس کے ساتھ ساتھ ان اداروں میں اصلاحات متعارف کرانے اور اس میں ہونے والی پیش رفت سے بھی عوام کو آگاہ کیا جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے