قربانی کے جانوروں کی آخری چند دنوں میں خوراک اور خیال

یاددہانی کی چند اہم باتیں !

ڈی ورمنگ /پیٹ جگر وغیرہ کے کیڑوں کی دوائی کا اب وقت ختم ہوگیا ہے، جانور صحت مند دِکھتا ھے اور دو سے تین ماہ پہلے کیڑوں کی دوائی پلائی تھی تو اب دوبارہ پلانے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے، ہاں اگر جانور بہت کمزور ہے، اور بہت ہی کمزور ہے تو مجبوری میں پلا سکتے ہیں، باقی اب پیسے ضائع نہ کریں جگر پیٹ کے کیڑوں کی اکثر دوائیں پندرہ سے پچیس دن تک جانور کے گوشت میں رہتی ہیں,

اب قربانی میں وقت کم ہے اور گوشت میں دوائی کا اثر انسانوں پر بھی ہوتا ہے, قربانی کے جانور آپ کے کاروبار کے ساتھ ساتھ ایک مذہبی فریضہ بھی ہے، اچھے اور حفظان صحت گوشت مسلمانوں تک پہنچے یا ہم سب کا فرض ہے چیچڑ کیونکہ بہت خطرناک اور جان لیوا بیماری پھیلا سکتے ہیں، اس لیے ان سے بچاؤ کا انجیکشن بھی آپ ابھی کچھ دنوں تک ہی ضرور لگوا لیں، آئیورمیکٹن انجیکشن کا کیمیکل بھی جانور کے گوشت میں اکیس سے اٹھائیس دن تک رہتا ہے بلا وجہ اینٹی بایوٹیک ہرگز نہ لگائیں، خوراک پانی میں توازن ہم خود نہیں رکھتے اور جانور کسی بھی وجہ سے تھوڑا کم کھانا پینا کرے تو فوراً پانچ گرام چالیس لاکھ اور طرح طرح کے اینٹی بائیوٹک لگانا شروع ہو جاتے ہیں، جس کا انسانوں کی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے

اس وقت سب سے بڑی غلطی جانور کی خوراک میں تبدیلی کر کے کریں گے, اگر جانور منڈی لے کر جانے ہیں تو وہی خوراک ساتھ لیے جائیں جو جانور کھا رہا ہے, یا وہ خوراک شروع کر دیں جو جانور منڈی میں کھائے گا، کوئی بھی نئی خوراک کم از کم دس دن میں مکمل تبدیل کریںآپ جانور کا ونڈا اناج دلیہ بڑھانا چاہتے تو دس فیصد اضافہ کا کلیہ یاد رکھیں

فرض کریں آپ جانور کو ٢ کلو ونڈا, اناج دلیہ دے رہے اور بڑھانا چاہتے تو اگلے دن دو کلو اور دو سو گرام دیں, آپ تین کلو ونڈا, اناج دلیہ دے رہے تو اگلے دن تین کلو اور تین سو گرام دیں, مزید بھی اسی طرح بڑھانا ہے, ایک پاؤ دو دن بعد مزید بڑھا دیںایک دم سے ونڈا, اناج دلیہ بڑھانے سے فائدے کے بجائے نقصان ہوگا اور بلکل نقصان ہوگا, آہستہ آہستہ خوراک بڑھائیں اور ونڈا اناج دلیہ یہ سب ہمیشہ چارہ میں مکس کر کے دیں، الگ سے نہ دیں نسخے اور ٹوٹکوں سے اس وقت پرہیز کریں، کسی کے سنے سناے نسخے اپنے جانوروں پر شروع نہ کر دیا کریں ان دنوں میں نیم حکیم, عطائیوں اور جعلی ڈاکٹروں کا بھی سیزن ہوتا ہے, بلاوجہ انکی جیب بھاری اور اپنی جیب ہلکی نہ کروائیں

اللہ کا واسطہ ہے ناقص خوراک، ہلکے ونڈے کھل، اور بازاری روٹی ٹکڑے سے بعض رہیں, پھپھوندی لگی خوراک بلکل نہ دیں, سستے کے چکروں میں نہ پڑیں، ناقص خوراک سے بہتر ہے سادہ چارہ ہی کھیلا لیں جانور کو کھلا رکھیں, پانی ہر وقت موجود ہو اس وقت کوئی بھی نیا کام اگر جانور کو صحت کو گراں گزرا تو فائدے کے بجائے نقصان ہوگا

گرمی کا موسم ہے اور گرمیوں میں جانوروں کا خیال پر ٣ تین بہت تفصیلی پوسٹیں ہو چکی ہیں, اس پوسٹ کو ان کی ساتھ پڑھیں گے تو کافی باتیں مزید واضح ہو جائیں گی, بس ایک بات یاد رکھیں نہ جانوروں کی خوراک انسانوں والی ہے اور نہ ہی جانوروں کا نظام انہضام /خوراک کو ہضم کرنے کا نظام انسانوں جیسے ہے, Ayesha Zahoor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے