بچوں کو اینٹی بائیوٹکس سے بچائیں

تحریر : انیلا ثمن

دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹکس کی بڑی مقدار مختلف امراض کے علاج میں استعمال کی جاتی ہے، لیکن اب بھی یہ ادویات انسانی جسم میں موجو د جراثیم کو ڈھیٹ اور مزاحم بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔جس کے لیے ماہرین نے بچوں کو غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس سے بچانے کے چھ طریقے وضع کیے ہیں۔

امریکا میں اسٹونی بروکس یونیورسٹی کے طبی ماہرین نے والدین کے لیے رہنما ہدایات دی ہیں جن کے ذریعے وہ بہت چھوٹے بچوں کو غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس سے بچا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین پہلے اینٹی بائیوٹکس کی افادیت اور استعمال کے بارے میں معلومات حاصل کر یں کیونکہ یہ بیکٹیریا کے انفیکشن کو ختم کرتی ہیں نہ کہ وائرل انفیکشنز کو جن میں فلو اور عام سردی شامل ہیں۔اسی طرح بہتی ناک،کھانسی اور گلے کی نالیوں کی سوزش کے لیے بھی کار گر نہیں ہوتیں کیونکہ اس کی وجہ وائرس ہوتے ہیں۔اسی لیے وائرس کے امراض میں اینٹی بائیوٹکس کے مقابلے میں احتیاط زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ مرض دوسروں تک با آسانی پھیل سکتا ہے۔

اگرچہ اینٹی بائیو ٹکس سے آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا بھی ختم ہو جاتے ہیں اور اس طرح خطر ناک بیکٹیریا مزید فروغ پاتے ہیں ۔ اس لیے خیال رہے کہ اینٹی بائیوٹکس کے معاملے میں ڈاکٹر کے مشورے پر سختی سے عمل کریں۔ڈاکٹر کی مقرر کردہ مقدار ہی استعمال کریں اور جب وہ منع کرے تو اس کا استعمال ترک کر دیں۔

سردی،کھانسی اور سانس کی نالی کے انفیکشن اور دیگر بیماریوں کے لیے پہلے گھریلو نسخے آزمائیں،انہیں اینٹی بائیوٹکس سے قبل پرہیز اور احتیاط سے کم کرنے کی کوشش کریں۔ بچے ہوں یا بڑے جس قدر ہو سکے آرام کریں، سگریٹ نوشی اور آلودگی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور ہلکی پھلکی آزمودہ دوائیں کھائیں جو بخار اور سردی کم کرنے کے لیے موجود ہیں ۔غرارے کرنے اور جوشاندہ وغیرہ پینے سے بھی گلے کی خراش اور سوزش کو کم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسی ادویہ دستیا ب ہیں جو بغیر نسخے کے کھائی جا سکتی ہیں۔ ان میں کئی ادویات ہیں جو بچوں اور بڑوں میں سردی،بخار،درد اور دیگر عارضوں کو دور کر سکتی ہیں۔چھ ماہ تک کے بچوں میں درد دور کرنے کے لیے ایسیٹمائنوفین مرکبات کی دوا دی جا سکتی ہے،لیکن ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔ چھوٹے بچوں کو ایسپرین نہیں دیں کیونکہ اس سے رائی سنڈروم پھیل سکتا ہے جو جگر کو متاثر کر تا ہے۔اسی طرح بچے اور بڑے بھاپ لے کر بعض بیماریوں کو بھگا سکتے ہیں۔بہت ضرورت کی صورت میں ہی اینٹی بائیوٹکس کی ان اقسام کو استعمال کریں۔اسی طرح اپنے بچوں کی اینٹی بائیوٹکس کسی دوسرے بچے کو نہ دیں خواہ علامات کتنی ہی مماثل کیوں نہ ہوں اور نہ ہی اینٹی بائیوٹکس مستقبل کے لیے بچا کر رکھیں۔

بچوں کو وقت پر ویکسین دینے سے موسمی امراض اور عارضوں سے نجات دلائی جا سکتی ہے،ڈاکٹروں کے کہنے پربچوں کو حفاظتی ٹیکے اور ویکسین دینا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے