عدالت نے سٹیزن پورٹل پر صوبائی محکموں کے خلاف شکایات پر کارروائیاں غیرقانونی قرار دے دیں

پاکستان سٹیزن پورٹل (پی سی پی) کو عوامی محکمے کے حوالے سے لوگوں کی شکایات پر کارروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ پشاور ہائیکورٹ

پشاور(لائیوسٹاک پاکستان) پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی محکموں کے حوالے سے سٹیزن پورٹل کی کارروائیاں غیر قانونی قرار دے دیں۔ تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے مینگورہ بینچ نے فیصلہ سنایا ہے کہ وزیر اعظم کے پرفارمنس ڈلیوری یونٹ (پی ایم ڈی یو) اور پاکستان سٹیزن پورٹل (پی سی پی) کو عوامی محکمے کے حوالے سے لوگوں کی شکایات پر کارروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور اس طرح کی کارروائی آئین کی خلاف ورزی ہے جو صوبوں کو ان کے اپنے دائرے میں خود مختاری فراہم کرتا ہے۔

قومی اخبار ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق رہائشیوں کی جانب سے دائر درخواست کو منظور کرتے ہوئے جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد خان نے قرار دیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ایم ڈی یو اور پی سی پی ملک بھر میں وفاق کے ایگزیکٹو اتھارٹی کے لیے مقررہ حد سے باہر کام کر رہے ہیں اور براہ راست صوبائی حکومت کے محکموں سے معاملات میں نمٹ رہے ہیں جو خصوصی طور پر صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

بینچ نے اپنے 27 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ’یہاں یہ واضح طور پر اپنے قانونی اختیار کی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں، صوبائی حکومت کے محکموں کا خود صوبائی حکومت کو ان کا احتساب، ان کی دیکھ بھال، ریگولیشن اور انہیں مؤثر بنانا چاہیے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ اگر صوبائی محکموں کی بد انتظامی کو چیک کرنے کے لیے سٹیزن پورٹل یا سسٹم درکار ہو تو اسے صوبائی سطح پر قائم کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ درخواست ضیا اللہ اور پانچ دیگر رہائشیوں نے دائر کی تھی جن کے خلاف چند نامعلوم افراد نے پی سی پی سے شکایت کی تھی ۔ بینچ نے درخواست گزاروں کی درخواست منظور کرلی اور پی سی پی کے ذریعے گمنام شکایت پر کارروائی کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے