حکومت پنجاب کی طرف سے کپاس کی امدادی قیمت5 ہزار روپے فی من مقرر

فیصل آباد(لائیوسٹاسک پاکستان) پنجاب کے مختلف اضلاع میں کپاس کی کاشت یکم اپریل سے شروع کی جائے گی جبکہ کاشتکاروں کو منظور شدہ اقسام شیڈول کے مطابق کاشت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہاگیاہے کہ کاشتکار ماہرین زراعت کی سفارشات پر سختی سے عملدرآمد کریں تاکہ انہیں کپاس کی بہتر پیداوار حاصل ہو سکے۔

ریسرچ انفارمیشن یونٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان پنجاب بھر میں کپاس پیدا کرنے والا  چوتھا ملک ہے اور پنجاب کو اس لحاظ سے خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ کپاس کی مجموعی پیداوار  میں پنجاب کا تقریباً 70 فیصد حصہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس صوبہ پنجاب میں حکومت کی کسان دوست پالیسیوں اور کاشتکاروں کی محنت کے باعث کپاس کی پیداوار میں تقریباً21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے  اور حکومت پنجاب کی طرف سے کپاس کی امدادی قیمت5 ہزار روپے فی من مقرر کی گئی  جبکہ امسال حکومت پنجاب کاشتکاروں کو کپاس کی منظور شدہ اقسام بی ایس15-،سی آئی ایم 663-،سی کے سی1-،آئی یوبی2013-،ایم این ایچ1020-،نایاب545-،نایاب878- اور نایاب کرن پر  سبسڈی فراہم کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں بُروالے اوربغیر بُر والے بیج کے تھیلے پرایک  ہزار روپے فی بیگ سبسڈی کی فراہمی جاری ہے اوریہ سبسڈی تھیلوں میں موجود واؤچر کے ذریعے کاشتکاروں کو فراہم کی جائے گی لہٰذااس ضمن میں کاشتکار سکریچ کارڈ نمبرلکھنے کے بعد سپیس دے کر اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کرکے8070 پر ایس ایم ایس کریں گے نیزواؤچر  سکریچ کرنے والے ہر کاشتکار کو سبسڈی دی جائے گی تاہم رجسٹرڈ کاشتکاررجسٹرڈ ڈیلرز سے کسان کارڈ کے ذریعے بھی سبسڈی حاصل کر سکتے ہیں۔ علاوہ  ازیں گلابی سنڈی کے کنٹرول کے لئے کاشتکاروں کو پی بی روپس بھی سبسڈی پر مہیا کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی بوائی کیلئے موزوں وقت یکم اپریل سے شروع ہوتا ہے لہذا کپاس کی کاشت کے مرکزی علاقوں ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، بہاولنگر، بہاولپور، ڈی جی خان، راجن پور، مظفر گڑھ،لیہ،رحیم یار خان کے اضلاع، ثانوی علاقوں فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، چنیوٹ،ساہیوال، اوکاڑہ، پاکپتن کے اضلاع اور مارجنل علاقوں بھکر، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، گجرات، منڈی بہاؤ الدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ، نارووال، سیالکوٹ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، لاہور، قصور،اٹک، راولپنڈی، جہلم، چکوال کے اضلاع میں کاشتکار کپاس کی بی ٹی اقسام بروقت کاشت کر کے بہتر پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں بتایاکہ یکم اپریل سے 15مئی تک پنجاب کے ذرخیز علاقوں میں ٹارزن ون، کپاس کے تمام درمیانے و ذرخیز علاقوں میں ایم این ایچ 886، تمام درمیانے و ذرخیز علاقوں میں وی ایچ 259، درمیانی زمینوں اور کم پانی والے علاقوں میں بی ایچ 178، درمیانی زمینوں و کم پانی والے علاقوں میں سی آئی ایم 599، تمام درمیانے و ذرخیز علاقوں میں سی آئی ایم 602، ایف ایچ 118، ایف ایچ 142 وغیرہ، زیادہ ذرخیز علاقوں میں آئی آر نایاب 824، مرکزی ذرخیز علاقوں بہاولپور،ملتان، ڈی جی خان،خانیوال میں آئی یو بی 222، تمام درمیانے و ذرخیز علاقوں میں سائبان 201، ستارہ 11ایم وغیرہ ، زیادہ وائرس والے علاقوں میں اے 555، درمیانے ذرخیز علاقوں میں کے زیڈ 181، ٹارزن 2، سی اے 12وغیرہ کوکاشت کرنا موزوں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے