سپریم کورٹ کا برطرف سرکاری ملازمین کو بحال کرنے کا حکم

جن تاریخوں پر ملازمین کو نکالا گیا ان ہی پر بحال کیا جائے اور ان کے واجبات بھی ادا کیے جائیں۔ جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ

اسلام آباد (لائیوسٹاک پاکستان) : جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ جن تاریخوں پر ملازمین کو نکالا گیا ان ہی پر بحال کیا جائے اور ان کے واجبات بھی ادا کیے جائیں۔ اختلافی نوٹ میں جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمانی نظام حکومت میں پارلیمان سپریم ہے، مضبوط جمہوری نظام میں پارلیمان ہی سپریم ہوتا ہے اور پارلیمنٹ کو نیچا دکھانا جمہوریت کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے گریڈ ایک سے 7 تک کے ملازمین کو بحال کر دیا، گریڈ 8 سے اوپر ٹیسٹ دینا ہو گا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گریڈ 7 سے اوپر جن ملازمین نے ٹیسٹ نہیں دیے انہیں ٹیسٹ دینا ہوگا، کرپشن مس کنڈکٹ اور دیگر بے ضابطگیوں پر نکالےگئے ملازمین کی برطرفی برقرار رہے گی، عدالت نے 17 اگست 2021ء کے فیصلے پرنظرثانی کی اپیلیں خارج کردیں ہیں، فیصلہ چار،ایک کے تناسب سے آیا، جسٹس منصورعلی شاہ نے اختلافی نوٹ تحریرکیا۔ جن ملازمین کو مس کنڈکٹ، کرپشن اور عدم حاضری پر برطرف کیا گیا ان پر فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ ملازمین کی بحالی اور ترقیاں محکموں کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہوں گی۔ جن ملازمین کی بھرتیوں کیلئے ٹیسٹ لازمی نہیں تھا وہ بحال تصورہوں گے۔  

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سرکاری ملازمین کی بحالی سے متعلق تحریری فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ بھی منظر عام آ گیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ملازمین کی بحالی کا فیصلہ چار ایک سے دیا جس کے اختلافی نوٹ میں جسٹس منصور علی شاہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ سیکڈ ایپلائز ایکٹ 2010ء کی جو شقیں آئین سے متصادم ہیں انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ جن تاریخوں پر ملازمین کو نکالا گیا ان ہی پر بحال کیا جائے اور ان کے واجبات بھی ادا کیے جائیں۔ اختلافی نوٹ میں جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمانی نظام حکومت میں پارلیمان سپریم ہے، مضبوط جمہوری نظام میں پارلیمان ہی سپریم ہوتا ہے اور پارلیمنٹ کو نیچا دکھانا جمہوریت کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے گریڈ ایک سے 7 تک کے ملازمین کو بحال کر دیا، گریڈ 8 سے اوپر ٹیسٹ دینا ہو گا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گریڈ 7 سے اوپر جن ملازمین نے ٹیسٹ نہیں دیے انہیں ٹیسٹ دینا ہوگا، کرپشن مس کنڈکٹ اور دیگر بے ضابطگیوں پر نکالےگئے ملازمین کی برطرفی برقرار رہے گی۔ عدالت نے 17 اگست 2021ء کے فیصلے پرنظرثانی کی اپیلیں خارج کردیں ہیں، فیصلہ چار،ایک کے تناسب سے آیا، جسٹس منصورعلی شاہ نے اختلافی نوٹ تحریرکیا۔ جن ملازمین کو مس کنڈکٹ،کرپشن اور عدم حاضری پر برطرف کیا گیا ان پر فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ ملازمین کی بحالی اور ترقیاں محکموں کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہوں گی۔ جن ملازمین کی بھرتیوں کیلئے ٹیسٹ لازمی نہیں تھا وہ بحال تصورہوں گے۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے