کووڈ 19 کے نفسیاتی اثرات ، انسان کا خوفزدہ ہونا ایک فطری رد عمل ہے

تحریر : پروفیسر زاہد رامے

کوڈ کا آغاز دسمبر 2019ء میں ووہان کی مچھلی منڈی سے ہوا تھا چنانچہ چین میں ہی سب سے پہلے کووڈ سے متاثرہ افراد کے نفسیاتی رد عمل پر سنڈی مروع ہوئی ۔ جس کے مطابق کووڈ سے مرنے والے اکثر افراد کی عمریں 60 سال سے اوپر تھیں ۔ عمر رسیدہ افراد کا امیونٹی لیول بہت کمزور ہوتا ہے اس لئے ان کی اکثریت کو وڈ انفیکشن کی تاب نہ لا کر موت کے سامنے ہتھیار پھینک دیتی ہے ۔ قریبی دوستوں کی موت سے ان کے اندر بھی خون اور سریس بڑھ جاتا ہے جو بیماریوں کے خلاف ان کی مزاحمت کو مزید کمزور کر دیتا ہے ۔

چین میں 1556 عمر رسیدہ افراد پر کوڈ کے نفسیاتی اثرات کا مطالعہ کیا گیا جن میں 954 خواتین اور 602 مرد تھے ۔ ان کی عمر میں 60 اور 80 سال کے درمیان تھیں ۔ سروے سے معلوم ہوا کہ 37.1 فیصد افراد کوڈ کی وجہ سے سنگین نفسیاتی عارضوں کا شکار ہیں ۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین میڈپریشن اور انگزائٹی زیادہ پائی گئی ۔ عمر رسیدہ خواتین میں سے کم تعلیم یافتہ ، مطلقہ ہوں اور تنہائی کی شکار خواتین میں ڈپریشن اور بے خوابی کی شرح زیادہ نکلی ۔ نوجوانوں پر نفسیاتی اثرات

بلاشبہ ہر انسان سے ایک دن اس دنیا سے کوچ کرنا ہے مگر کووڈ کی وجہ سے بھر پور زندگی میں مگن نوجوان اچانک اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ انسان فطری طور پر موت سے خوفزدہ ہو تا ہے اور اس کا مرے کو دل نہیا بہتا مگر کوڈ کا حملہ اس قدر شدید ہوتا تھا کہ ہر پل ساتھ رہنے والے لوگ اپنے بہن بھائیوں کی لاشوں کو چھونے سے بھی گریز کرنے لگے ۔ کووڈ نے انسان کو انسان سے اتنا خوفزدہ کر دیا کہ اپنی طرف آئے والا ہر انسان دوسرے کو ایک چلتا پھر تا کوڈ ہم شیل دکھائی دینے لگا ۔ کووڈ کے خون سے ہماری زندگی کے چلن کو اس قدر تبدیل کر دیا ہے کہ ہم یکسر ایک نئے لائف سٹائل میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ بچوں پر نفسیاتی اثرات معصومیت ، شرارت اور نئی باتیں سیکھنا ہر بچے کی فطرت ہے ۔ اگر ایک اچھلتے کودتے بچے کو اچانک گھر کی چار دیواری میں بند کر دیا جائے اور اس پر گھر سے باہر قدم رکھنے پر پابندی لگا دی جائے تو اس کیلیے گھر بھی جیل سے کم نہیں ہو تا ۔ نئے لوگوں ، نئے تجربات سے نئی باتیں سیکھنا ہر بیٹے کی جبلت میں شامل ہے ۔ وہ اپنے ہر دن کا آغاز ایک نئے سورج کے ساتھ کرنا چاہتا ہے مگر سکول جانے والے چلتے مسکراتے بچوں کو جب گھروں میں آئسولیشن پر ڈال دیا گیا، لوگوں سے ملنے ، چھوٹے اور ان سے ہاتھ ملانے سے روک دیا گیا تو سب سے زیادہ سٹریس کا سامنا سکول کا بچ جانے والے انہی بچوں کو کرنا پڑا۔ بچوں کو روزانہ اپنے کلاس فیلوز سے مل کر ایک نئی خوشی ملتی ہے جوان کے انرجی لیول میں اضافے کا سے باعث بن جاتی ہے ۔ کلاس روم کا خوشگوار ماحول کبھی آن لائن تعلیم کا نعم البدل نہیں ہوسکتا

کووڈ نے خاص طور پر بچوں کی زندگی پر انتہائی تباہ کن نفسیاتی اثرات مرتب کیے ہیں ۔ کوڈ کا عفریت بھر پور فیملی لائٹ میں مگن بچوں میں سے اچانک کسی کے ماں باپ اور کسی کے بہن بھائی چھین کر لے گیا ۔ موت کا اچانک اور شدید حملہ ان کے چھروسے زندگی کی چمک لے اڑا۔ بہت سے گھروں سے لیکے بعد دیگرے کئی کئی جنازے اٹھے ، مجھے جو اتنے شدید صدمات کیلئے تیار ہی نہیں تھے اچانک انگزائٹی اور ڈپریشن کا شکار ہو گئے ، اپنے پیاروں کی موت نے انہیں پوسٹ سٹریس ٹراما میں دھکیل دیا ۔ بچوں اور جوانوں میں اپنی زندگی کے بارے میں بے یقینی کا جتنا خوف کوڈ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ یور دوست ” نامی ایک این جی او نے بھارت میں طلباء پر کوڈ کے نفسیاتی اثرات کا سروے کیا ۔ جس کے نتائج کے مطابق 54 فیصد بچوں میں غصہ ، چڑچڑاہٹ اور فرسٹریشن پائی گئی ، 41 فیصد بچے انگزائٹی اور خون میں مبتلا تھے ، 38 فیصد طلباء بوریت ، بیزاری اور شدید تنہائی کا شکار نظر آئے ، 17 فیصد بچوں میں افسردگی، یاسیت اور نا امیدی کا غلبہ پایا گیا ۔ ٹی وی چینلز پر کوڈ سے مرنے والوں سے متعلق خبروں اور جنازو کی کوریج نے بچوں اور بڑوں دونوں کو سخت ڈپریشن اور انگزائٹی میں مبتلا کر دیا۔ بلاشبہ میڈیا نے لوگوں میں کووڈ کے بارے میں آگاہی پیدا کی سے مگر ڈس انفارمیشن کی بھر مار نے بھی لوگوں میں شدید نفسیاتی دبائو اور خوف و ہراس پیدا کر دیا ۔ قرنطینه ، باہمی میل جول سے گریز اور سماجی فاصلہ رکھنے سے جہاں بچے باہمی روابط سے محروم ہو گئے تھے وہیں سوشل میڈیا نے بڑی حد تک دوستوں سے رابطہ کرنے میں بھی ان کی مدد کی ہے ۔ ورنہ سیکھ اس سے کہیں زیادہ ذہنی مسائل کا شکار ہوجاتے ۔ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر ڈیھر کے خیال میںکٹھن صورت حال میں انسان کا خود دہ ہونا ایک فطری رد عمل ہے ۔ یہ ایک لحاظ سے آپ کا مددگار بھی ہے کہ آپ ایسے خوفناک مناظر دیکھ کر ہی لوگوں کے ہجوم میں جانے سے گریز کرتے ہیں ، اپنے منہ کو بار بار نہیں چھوتے ۔ اپنے ہاتھ بار بار دھوتے ہیں ۔ اس طرح نہ صرف آپ خود محفوظ رہتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی محفوظ رکھتے ہیں ۔

گھر یلو تشدد میں اضافہ

اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ہر تین میںسے ایک خاتون گھر یلو تشدد کا سامنا کر رہی ہے مگر کوڈ کے آنے کے بعد گھر یلو تشدد میں اس سے کہیں زیادہ اضافہ ہو چکا ہے ۔ اس بگاڑ کی بڑی وجہ زندگی کی بے ثباتی اور موت کا خوف ، ملازمت یا کاروبار کے اچانک ختم ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی مالی مشکلات ہیں ۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں خواتین اور لڑکیوں پر گھر یلو تشدد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کو رونا کے نتیجے میں فیملی مبرزا اپنا زیادہ وقت گھر پر گزارنے پر مجبور تھے

لاک ڈائون لگنے کی وجہ سے دنیا کو اس وقت عالمی کساد بازاری کا سامنا ہے ۔ ذرائع آمدنی ختم ہونا اور اچانک مر جانے کا خوف شدید ذہنی سٹریس کا باعث بن رہا ہے چنانچہ عدم برداشت کے جذبات پروان چڑھ رہے ہیں ۔ مالی دہائوی گھر یلو ضرورت کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خریداری سے شروع ہونے والی بحث طول پکڑ جاتی ہے اور اکثر لڑائی جھگڑے اور تشدد پر ختم ہوتی ہے ۔ ان حالات میں آپ یہی کر سکتے ہیں کہ ہتھیار پھینک دیں اور موت کو گلے لگالیں یا کسی پاگل خانے کو رونق بخشیدیا پھر خوف اور ڈپریشن کے بیل کو سینگوں سے پکڑ لیں اور بہادری سے اس مشکل صورت حال سے نکلنے کی کوشش کریں ۔ کوڈ کی وجہ سے اگر انسانوں میں یہ احساس بڑھ گیا ہے کہ میرا کوئی خیال نہیں کر رہا مجھے نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ اس انگزائٹی کی بڑی علامات مینیند کی خرابی ، بے آرامی ، چڑچڑاہٹ اور در مسلسل ذہنی انتشار شامل ہیں ۔ پینک اٹیکس کی بڑی علامت بار بار پسینہ آنا، جسم میں کپکپی ، سانس اکھڑنا، دل کی حرکت تیز ہونا ہے ۔ ڈپریشن کی صورت میں روز مرہ زندگی میں عدم و چسپی ، وزن میں کمی یا اضافہ ، بے خوابی یا بہت زیادہ نیند آنا، دماغ کا منتشر رہنا ، زندگی کی بے ثباتی اور بار بار خودکشی کرنے کا خیال آتا رہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے