ڈیری مصنوعات کے استعمال کا فائدہ سامنے آگیا

حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ وہ افراد جو ڈیری مصنوعات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔آن لائن ریسرچ جرنل پی ایل او ایس میڈیسن کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین نے دودھ کے استعمال اور دل کی صحت سے متعلق 18 مطالعات کا جائزہ لیا جو پچھلے 16 سال کے دوران سوئیڈن، امریکا، برطانیہ اور ڈنمارک میں کیے گئے تھے۔ان تمام مطالعات میں مجموعی طور پر 47 ہزار سے زائد رضا کار شریک ہوئے تھے، جن میں سے بیشتر کی ابتدائی عمر 60 سال کے لگ بھگ تھی۔اس تجزیے سے معلوم ہوا کہ دودھ اور دودھ سے بنی غذائیں مثلاً دہی، مکھن اور پنیر وغیرہ زیادہ استعمال کرنے والوں میں امراض قلب کی شرح خاصی کم تھی۔یہی نہیں بلکہ اپنے روزمرہ معمولات میں سب سے زیادہ دودھ اور ڈیری مصنوعات استعمال کرنے والوں کےلیے دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی سب سے کم دیکھا گیا۔ان کے مقابلے میں وہ افراد جن میں ڈیری پروڈکٹس استعمال کرنے رجحان کم تھا، ان کی بڑی تعداد اپنی بعد کی عمر میں دل اور شریانوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوئی۔واضح رہے کہ طبّی ماہرین پچھلے کئی سال سے دودھ اور ڈیری مصنوعات کی کم مقدار استعمال کرنے پر زور دیتے آرہے ہیں کیونکہ ان میں چکنائی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے، البتہ دوسری کئی تحقیقات سے اس کے برخلاف نتائج بھی سامنے آتے رہے ہیں۔آسٹریلیا، امریکا، سوئیڈن اور چین کے ماہرین پر مشتمل اس مشترکہ پینل کی تحقیق نے بھی صحت کے حوالے سے دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات کی افادیت ثابت کی ہے۔ریسرچ پیپر کی مرکزی مصنفہ اور جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ آسٹریلیا کی پروفیسر کیتھی ٹریو کا کہنا ہے کہ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے دودھ پر مبنی غذاؤں کا استعمال مکمل طور پر ترک کردینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کی سنگینی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے