کتے اپنی غلطی کو سمجھتے ہیں !

تحریر : طیب رضا عابدی

انسان شعور رکھتا ہے،اچھے برے کی تمیز کرنے کی صلاحیت اسے ودیعت کی گئی ہے یہی خوبی اسے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔اپنے بچوں اور اپنی نسل سے (کسی حد تک)محبت کا جذبہ ان کی سرشت میں شامل ہے، قدرت انہیں ایک دوسرے سے محبت یا نفرت کرناسکھادیتی ہے۔یہ محبت اس وقت تک برقرا رہتی ہے جب تک کہ بچے خود اڑان بھرنا یا شکار کرنا نہیں سیکھ جاتے۔
ماہرین حیوانات کا کہنا ہے کہ ” جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کتوں میں اپنی غلطی کو سمجھنے کی حس کسی حد تک موجود ہوتی ہیں جس سے انہیں اپنی کسی حرکت کے اچھے یابرے ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔ جب وہ کوئی غلطی کرتے ہیں تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ان کی اس حرکت پر مار بھی پڑ سکتی ہے ،وہ اس مار کے لئے تیار بھی رہتے ہیں۔ بعض نسل کے کتوں میں اپنے مالک کی محبت کو سمجھنے کی حس بھی پائی جاتی ہے‘‘۔
12جون 2021ء کو ہیریٹ میئرز (Harriet Meyers) نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ”ہمارے کتے ہمارے ساتھ اپنے آپ کو شیئر کرتے ہیں، خوف اور دبائو کی علامات بھی ان کی باڈی لینگوئج سے عیاں ہوتی ہیں۔یہی نہیں ،بلکہ کتے یہ بھی سمجھ جاتے ہیں کہ ان کے مالک کو ان کی کون سی بات اچھی لگتی ہے اور کون سی بری ۔ کتے اپنی غلطی کے علاوہ تشویش (anxiety) کا شکار بھی ہوتے ہیں وہ یہ بھی جان جاتے ہیں کہ ان کے مالک انہیں کونسی بات سمجھانا چاہتے ہیں،یعنی وہ تربیتی عمل سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ویکیوم کلینرسے ڈرے بغیر پاس سے گزر جاتے ہیں ۔اور اگر یو پی ایس سے دھواں اٹھ رہا ہو ، تو اس خطرے سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔آپ کے دوستوں کے ساتھ بھی اٹھکیلیاں کر سکتے ہیں‘‘۔وہ یہ بھی سمجھ جاتے ہیں کہ گھر کے کون کون سے دوسرے جانور آپ کے اپنے ہیں ،ا نہیں کچھ نہیں کہنا ۔اسی لئے وہ بلیوں سے بھی کھیلتے رہتے ہیں لیکن باہر سے کوئی بلی آ کر تو دکھائے۔پھر جب وہ کپڑوں یا جرابوں کو خراب کر دے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اب مار بھی پڑ سکتی ہے۔اس کی باڈی لینگوئج سے اس غلطی کااحساس جھلکتا ہے۔
ڈاکٹر الیکذنڈرا کے مطابق ” اگر کتے کا مالک کچھ نہ کہے تو ان میں احساس کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ان کی اس غلطی کا اندازہ لگانے کے لئے دم کی حرکت،آنکھوں میں آنے والی سفیدی، چلنے کے انداز میں تبدیلی یا جھکائویا جمائیاں لینا، پائوں یا کسی چیز کو چاٹنا، کان سیدھے کر لینایا پھر آنکھیں نہ ملانا‘‘۔ یعنی اپنی کوتاہی پر کتے بھی آنکھیں ملانے سے گھبراتے ہیں۔
یہ دیکھنے کے لئے کہ کتے خود کو پہچانتے ہیں یا نہیں، ایک تحقیق گارڈن گیلپ نے کتوں کو آئینے کے سامنے کھڑا کر کے کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ” دوسرے جانوروں کی طرح کتے بھی انسان کو یہ نہیں بتا سکتے کہ انہیں کیا چیز پسند ہے اور وہ کون سی چیز ناپسند کرتے ہیں۔ لیکن انسان چاہے تو کتے کے رد عمل سے اندازہ لگا سکتا ہے۔یہ مشکل کام نہیں ہے۔ انہوں نے ایک کتے کے چہرے پر کوئی نشان لگا دیا اور پھر اسے شیشے کے سامنے لا کھڑا کیا، کتا دیر تک اسے دیکھتا رہا اور پھر پنجے سے اس نشان کو ٹچ کرنے کی کوشش بھی کی، وہ حیران تھا کہ اس کے چہرے پر یہ نشان نہیں ہے، تو شیشے میں کیونکر دکھائی دے رہا ہے۔اسے معلوم ہوتا ہے کہ شیشے میں کوئی اور نہیں ہے،وہ خود ہے۔اس لئے اپنی شکل و شباہت پر نظرآنے والا نشان بھی اسے پریشان کر دیتا ہے‘‘۔ اس تحقیق سے گارڈ گیلپ جونیئر نے نتیجہ نکالا کہ ”کتے شیشے میں نظر آنے والی شکل کی شناخت رکھتے ہیں ، انہیں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی شیشے میں بھی مکمل پہچان رہتی ہے اس میں تبدیلی انہیں سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے‘‘۔
انہوں نے لکھا کہ ”انسانوں میں یہ خوبی پیدائشی تو ہوتی ہے لیکن پیدائش کے فوراً بعدبچہ شیشے میں نظر آنے والی اپنی شکل کو نہیں پہچان سکتا۔یہ خوبی اس میں 18سے 24مہینے کے درمیان میں پیدا ہوتی ہے‘‘ ۔لیکن یہ خوبی تمام جانوروں میں نہیں ہوتی۔محققین نے بتایا کہ ”برس ہا برس کی تحقیق میں کم ہی جانور اس ٹیسٹ پر پورے اترے ہیں۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ شیشے میں پہلی مرتبہ اپنا عکس دیکھ کر کتا بوکھلا جائے،اسے شک ہو کہ کمرے میں اس جیسا کوئی اور بھی موجود ہے تاہم کمرے میں رہنے کے بعد ان میں خود شیشے میں خود کو پہچاننے کی حس بیدار ہو سکتی ہے۔انسان میں دیکھنے اور پہچاننے کی حسیں ودیعت کی گئی ہیں وہ کسی بھی چیز کو دیکھ کر اسے پہچان سکتا ہے لیکن جانور اس صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے