یقین کامیابی کا اصل راز

تحریر : بینش جمیل

ہر کامیابی کے پیچھے صرف سادہ اور چھوٹا سا راز ہوتا ہے اور وہ ہے ”یقین‘‘ ۔یہی طاقت ایک اضافی ہمت مہیا کرتی ہے اور اسی کے ذریعے بڑے بڑے کام سر انجام دئیے جا سکتے ہیں۔یقین ایک پوشیدہ اور ذاتی طاقت ہے ۔ اپنی ذات پر مکمل اعتماد اور یقین کے بغیر آپ کی تمام ذہنی صلاحتیں اور قابلیت بے کارہے۔آپ کی یقین ہی آپ کو تمام تر مایوس کن اور پریشان حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت دیتا ہے۔
بد قسمتی سے بہت سے نوجوان اس خاصیت اور اس کی اہمیت سے لاعلم ہیں۔ ان میں یقین کی خصوصیت نہیں ہوتی اور زندگی کے مختلف موقعوں پر ان کی کارکردگی نہایت ہی کمتر ہوتی ہے۔ذرا سی مشکلات وہ ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔جو افراد یقین کام سے عاری ہوتے ہیں وہ کبھی کسی ایک ٹھوس مؤقف پر قائم نہیں رہتے۔جدھر بہاؤ تیز ہوتا ہے وہ ادھر کا رخ کر لیتے ہیں۔ان کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے سڑک کے درمیان چل رہے ہوں اور پھر ایسے لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی گاڑی کے نیچے آکر کچلے جاتے ہیں۔یہ سادہ لفظ ”یقین‘‘ آپ کے اندر حیرت انگیز تبدیلی اور عظمت پیدا کر دیتا ہے۔
کچھ سال پہلے ایک طالب علم نے اپنا کرئیر اچھا بنانے کے لئے پروفیشنل امتحان دینے کا فیصلہ کیا تھا۔پہلا پرچہ اس نے بہت اچھا کیا لیکن وہ سمجھتا رہا کہ اس کاپہلا پرچہ بہت خراب ہوا ہے یہی بات ذہن میں لئے وہ اپنے باقی کے پرچوں پر مکمل توجہ نہ دے پایا۔جب نتیجہ آیا تو جس پیپر کو وہ سمجھ رہاتھا کہ اچھا نہیں ہوا اس پرچے میں وہ اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوا تھا لیکن بقیہ تمام پرچوں میں فیل ہو گیا تھا۔ایسا صرف اس لیے ہوا تھا کہ اسے خود پر یقین نہیں تھا۔
کامیاب ہونے کے لئے آپ کو اپنے دماغ کو مثبت سوچوں کا ایندھن دینا پڑتا ہے۔کسی بھی حالت میں کبھی کوئی غلط اور منفی خیال ذہن میں نہیں لانا چاہئے۔ منفی خیالات اور جذبات آپ کے مستقبل کے دشمن ہوتے ہیں۔یہ آپ کی کامیابی کی رکاوٹین ہیں لہٰذا اپنی ذہانت کے بارے میں کبھی بھی کوئی غلط اندازہ مت لگائیں اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کشش کریں۔اگر ایک بار منفی خیالات نے آپ کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیاتو اس کی جڑیں گہری سے گہری ہوتی جائیں گی اور حوصلہ شکن خیالات کی زنجیر بنتی چلی جائے گی ۔ان حالت میں آپ کی خود اعتمادی شدید دباؤ کا شکار ہو جائے گی اور آہستہ آہستہ آپ کی ذات ایسی اتھاہ پستی کی جانب روانہ ہو جائے گی جہاں سے کامیابی بہت دور ہوگی۔
کامیابی کے لئے آپ کو اپنی ذات پر مکمل بھروسہ رکھنا ہو گا اور خود کو بتانا ہوگا کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں ۔ آپ کا اولین فرض ہے کہ خود اپنی ذات کا احترام کریں اور خود آپ کو اپنی طاقت اور اپنی ہمت کا علم ہو۔نا مناسب حالات یا ماحول بھی اخلاق کو خراب کر سکتے ہیں۔ یہ فرد کو اپنی اہلیت،ذہانت اور قابلیت کا غلط اندازہ لگانے کی طرف ترغیب دیتے ہیں اور کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اکثر گھروں کے حالات اور برے دوستوں کا ساتھ بھی آپ کو آگے بڑھنے میں مدد دینے اور حوصلہ بڑھانے کی بجائے آپ کو پیچھے کی طرف لے جاتے ہیں۔
یاد رکھئے کسی بھی قسم کے منفی ماحول کو اجازت نہ دیں۔آپ کو خود اپنی ذہانت کا علم ہونا چاہئے۔ آپ کو اپنی طاقت ، اپنے ہنر، اپنی قابلیت،اپنی ذہانت اور اپنی اہلیت کا علم ہو نا چاہئے۔چاہے کو ئی کچھ بھی کہے۔جب آپ کو اپنی ذات کا علم ہو گا تو آپ وہی کریں گے جو آپ کے لئے بہتر ہو گا۔آپ کو اپنی ذات سے محبت کرنی چاہئے۔خود توقیری کا مطلب اپنے جسم اور سوچ کو پسند کرنا،اپنی ذہانت اور اہلیت کو پسند کرنا ہے۔ایک پر اعتماد شخصیت کو اپنی قابلیت پر یقین ہوتا ہے اور اسے اپنے کام سے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اکثر طالب علم اپنے کام میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔انہیں ادھورا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ان میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے اور یہی چیز ان کے مستقبل پر اثر انداز ہوتی ہے۔
خود اعتمادی اور خود یقینی کے ملاپ سے ناممکن چیزیں بھی ممکن بن جاتی ہیں۔ لہٰذا اپنی پوشیدہ طاقت اور ذہانت پر مکمل یقین رکھیئے۔یقینا آپ شاندازکامیابی حاصل کر سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے