جانوروں میں منہ کھر کے حوالے سے ایف اے او اور محکمہ لائیوسٹاک کی مشاورتی ورکشاپ

وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے "پاکستان منہ کھربیماری کنٹرول پروگرام – ایک قومی روڈ میپ” کے حوالے سے ایک مشاورتی ورکشاپ کی صدارت کی جو کہ اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم نے وزارت قومی خوراک تحفظ و تحقیق کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی۔

قومی ورکشاپ میں صوبائی وزیر سردار بہادر دریشک، عبدالباری پتافی، اینمل ہسبینڈری کمشنر ڈاکٹر خورشید احمد، ڈپٹی اینمل ہسبینڈری کمشنر، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان، ایڈیشنل سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی راشد لنگڑیال ایف اے او کی نمایندہ مس فلورینس رولو سمیت مختلف اداراوں کے سینیئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے قومی خوراک و تحفظ سید فخر امام نے کہا کہ منہ کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی) ایک مہلک بیماری ہے جس کی وجہ سے ایک سال میں تقریبا 693 ملین ڈالر کا معیشت کو نقصان ہوالیکن ملک میں اس کا کبھی حساب نہیں لیا گیا۔ OIE کے 181 رکن ممالک میں سے 113 ممالک بشمول پاکستان اس بیماری کے مختلف درجات سے متاثر ہیں۔ بقیہ 68 ممالک منہ کھر کی بیماری فری سٹیٹس سے مستفید ہو رہے ہیں تاہم منہ کھر کی بیماری مقامی ممالک کی جانب سے بین الاقوامی تجارت کے ذریعے اس بیماری کے باعث مسلسل زد میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے ممالک سے تجارت کو محدود کرتے ہیں یا صرف ان مصنوعات کے داخلے کی اجازت دیتے ہیں جنہیں اپنے ملک میں منہ کھر کی بیماری ایجنٹ لے جانے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اس طرح منہ کھر کی بیماری کی روک تھام اور کنٹرول سے منسوب 75 فیصد اخراجات اس بیماری سے متاثرہ ممالک اٹھاتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف اے او نے پاکستان میں منہ کھر کی بیماری پر متعدد پروگرام کا اطلاق کیا، جن کی مالی امداد مختلف عطیہ دہندگان جیسے اٹلی ، امریکہ اور جاپان نے کی ہے۔ ان پروگراموں کے تحت منہ کھر کی بیماری کی نگرانی کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منہ کھر کی بیماری کے AOایشیا1 ملک کے مختلف حصوں میں گردش کر رہے تھے۔ کچھ علاقے ایسے تھے جہاں منہ کھر کی بیماری کے وائرس کے مکس اسٹرین کا پتہ چلا۔ 495 20,ڈیری فارمرز کومنہ کھر کی بیماری کی روک تھام کی تربیت دی گئی اور 16 سے زائد ویٹرنری پروفیشنلز کومنہ کھر کی بیماری کی تشخیص ، بیماریوں کی تحقیقات اور رسپانس کی تربیت دی گئی۔ منہ کھر ویکسین کی تقریبا 8-11 ملین خوراکیں درآمد کی گئیں اس بیماری کے پھیلنے کے مرکز کے ارد گرد رنگ ویکسینیشن کے لیے استعمال کی گئیں۔ پیری اربن ڈائری کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا گیاجس نے یہ ثابت کیا گیا کہ منہ کھرکی بیماری کے واقعات کو سال میں دو مرتبہ اچھے معیار کی ویکسین کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ مزید برآں ،جناب فخر امام نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ زراعت کے اس اہم نظرانداز کیے جانے والے سب سیکٹر پر ردعمل ظاہر کیا جائے جو کہ زرعی ویلیو ایڈیشن میں 61 فیصد اور مجموعی جی ڈی پی میں 11 فیصد سے زیادہ کا حصہ ہے۔ ابتدائی مرحلے میں ہمیں ان بیماریوں کے پیدا ہونے کی وجوہات کو روکنے کی ضرورت ہے بالخصوص طور پر تجارت کو محدود کرنے والی بیماریوں جن میں منہ کھر شامل ہے۔

وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے کہا کہ قومی منہ کھربیماری کنٹرول پروگرام کی ترقی، پلاننگ کمیشن کو پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے ذریعے ایف ایم ڈی فری زون کا قیام شامل ہے لیکن محدود نہیں ہے۔ ملک کے باقی حصوں میں FMD ہاٹ سپاٹ کے لیے خطرے پر مبنی اسٹریٹجک ویکسینیشن ملک بھر میں جانوروں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے قومی سطح پر جانوروں کی شناخت کے نظام کو تیار اور نااس کا اطلاق شامل ہے منہ کھر ویکسین مقامی طور پر تیار کی جائے گی تاکہ پروگرام کو اپنی اورڈونر کی معاونت سے طویل عرصے تک موثر بنایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے