کیا الٹراساؤنڈ سے موٹاپا کم کیا جاسکتا ہے؟

نیو یارک: امریکی سائنسدانوں نے تجربات کے دوران چوہوں کے جگر پر الٹراساؤنڈ کی لہریں مرکوز کرکے ان میں موٹاپا کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اگر یہی تدبیر انسانوں میں بھی مؤثر ثابت ہوئی تو امید ہے کہ آئندہ چند سال میں انسانی موٹاپا ختم کرنے کا ایک ایسا نیا طریقہ ہمارے پاس ہوگا جس میں دوا اور آپریشن کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

تجربات کے پہلے مرحلے میں سائنسدانوں نے چوہوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا: ایک گروہ کو آٹھ ہفتوں تک روزانہ صحت بخش غذا دی گئی جبکہ دوسرے گروہ کو اس عرصے میں چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور، مغربی طرز کی غذا کھلائی گئی۔

توقعات کے مطابق، ان آٹھ ہفتوں میں چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کھانے والے چوہوں کی جسمانی چربی اور وزن میں صحت بخش غذا لینے والے چوہوں کی نسبت زیادہ اضافہ ہوا۔

اگلے مرحلے میں ان تمام چوہوں کو، ان کی سابقہ غذا جاری رکھتے ہوئے، دو مختلف گروہوں میں بانٹا گیا: ایک گروہ کے جگر پر روزانہ مرکوز الٹراساؤنڈ لہریں (pFUS) ڈالی گئیں جبکہ دوسرے گروہ میں شامل چوہوں کے جگر پر کوئی اور سی بے ضرر شعاعوں کی بوچھاڑ کی گئی۔

یہ مرحلہ بھی آٹھ ہفتے تک جاری رہا۔

صحت بخش غذا لینے والے چوہوں سمیت، روزانہ بے ضرر شعاعوں کا سامنا کرنے والے چوہوں کی صحت کا معاملہ ویسا ہی رہا جیسا پہلے تھا۔

البتہ چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا کے ساتھ ساتھ مرکوز الٹراساؤنڈ لہروں کی روزانہ ’’خوراک‘‘ لینے والے چوہوں میں وزن اور چربی بڑھنے کا سلسلہ خاصی حد تک قابو میں آگیا۔

وہ کم کھانے لگے، ان میں پیٹ پر کم چربی جمع ہوئی جبکہ ان میں وزن بڑھنے کی رفتار بھی کم ہوگئی۔ یہی نہیں بلکہ ان کے خون میں چربی اور موٹاپے سے تعلق رکھنے والے بعض مخصوص مرکبات کی مقدار میں بھی کمی واقع ہوئی۔

واضح رہے کہ ماضی میں بعض تحقیقات سے یہ معلوم ہوا تھا کہ جگر پر الٹراساؤنڈ لہریں مرکوز کرنے سے جگر میں موٹاپا اور چربی کم کرنے والی خصوصی سرگرمیاں بڑھتی ہیں۔

نیویارک میں واقع ’’فائنسٹائن انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل ریسرچ‘‘ اور ’’جی ای ریسرچ‘‘ کے ماہرین نے انہی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے چوہوں پر ابتدائی تجربات کیے جو بہت کامیاب ثابت ہوئے۔

اس تجربے اور نتائج کی تفصیلات آن لائن ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے