سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کسان اپنے مویشی انتہائی کم قیمت پر بیچنے پر مجبور

 لاہور: جنوبی پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ بعض علاقوں میں کسان اپنے مویشی بیچنے پر مجبور ہوگئے۔

تونسہ، راجن پور،لیہ ،میانوالی اورڈی جی خان کےعلاقوں میں مویشیوں کے لئے چارے کی قلت اوروبائی امراض کے خطرے کے پیش نظر کسان اپنے مویشی انتہائی کم قیمت پر فروخت کررہے ہیں۔

لاہور، ساہیوال، قصور، فیصل آباد سمیت دیگرشہروں سے بیوپاری سیلاب متاثرہ علاقوں کا رخ کررہے ہیں تاکہ وہاں سے سستے داموں جانورخریدے جاسکیں۔

جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کو جہاں ایک طرف اپنے گھروں، مویشیوں اورفصلوں سمیت دیگر سامان کے نقصان کا دکھ برداشت کرنا پڑا ہے وہیں زندہ بچ جانیوالے مویشیوں کی دیکھ بھال بھی اب ان کے لئے ایک بڑامسئلہ بنتی جارہی ہے۔

راجن پور کے علاقہ فاضل پور کے رہائشی عامرحیسن لاشاری اپنے خاندان کے ساتھ ایک خیمہ بستی میں مقیم ہیں۔ وہ اپنے علاقے کے ایک متوسط کسان ہیں ،ان کے پاس 50 سے زائد چھوٹے ،بڑے مویشی تھے جن میں سے آدھے سیلاب کےپانی میں بہہ چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ مویشی ان کے ساتھ ہیں جن کی وہ دیکھ بھال میں لگے رہتے ہیں۔

عامرحسین لاشاری نے بتایا کہ اس وقت انہیں اپنے خاندان کے دووقت کے کھانے کی فکر ہےجو وہ بمشکل پورا کررہے ہیں ، مویشیوں کے لئے چارہ کہاں سے لائیں،انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس زیادہ ترگائیں اور بھیڑبکریاں ہیں۔ گائے کوئی خریدنے کو تیارنہیں ہورہا ہے، پہلے بیماری (لپمی سکن) کی وجہ سے ان کی قیمتیں کم تھیں اوراب سیلاب کی وجہ سے اورمسئلہ بن گیا ہے۔ اگریہ جانورزیادہ عرصہ یہاں رہے تو منہ کھرکی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لائیوسٹاک کے عملے نے ان کے جانوروں کی ویکسی نیشن کی ہے جبکہ چند این جی اوز نے مویشیوں کے لئے چارہ بھی دیا ہے۔

ایک اورکسان احمد خان بلوچ کاکہنا تھا انہوں نے اپنے جانور بیوپاریوں کوبیچ دیئے ہیں۔ بہت کم قیمت پرجانوربیچناپڑے ہیں، صرف دودوھ دینے والے دوجانورپاس رکھے ہیں، باقی بیچ دیئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا گھرسیلاب کے پانی میں مکمل ڈوب چکا اوراب توسب کچھ ختم ہوچکا ہوگا، ناجانے پانی اترنے اورواپس گھروں کوجانے میں کتنے ماہ لگتے ہیں۔ مویشی فروخت کرکے جوپیسے حاصل ہوئے ہیں ان سےاب کوئی چھوٹا،موٹا کام کروں گا تاکہ اپنااوربچوں کا پیٹ پال سکیں۔ اب ساری زندگی امدادی سامان کے سہارے تونہیں گزارسکتے ہیں۔ جب واپس اپنے گھروں کو جائیں تو پھرمویشی پال لیں گے۔

لاہورسے تعلق رکھنے والے بیوپاری رانا مبشر حسن نے بتایا عام طور ان دنوں میں دودھ دینے والے جانوروں کی قیمت کم ہوجاتی تھی لیکن مویشیوں میں لمپی سکن کی وبا اور سیلاب کی وجہ سے دودھ دینے والے جانوروں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ دودھ دینے والی بھینس کی قیمت دو،ڈھائی لاکھ روپے سے بڑھ کر ساڑھے چارلاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ لیکن ایسے مویشی جواب دودھ نہیں دیتے خاص طور پرگائیں ان کی قیمتیں انتہائی کم ہوگئی ہیں۔ گائے کو کوئی خریدنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک گائے کی قیمت اس وقت 50 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک ہے، مویشی منڈیوں میں بہت کم مویشی لائے جارہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں جوسیلاب سے متاثرہ علاقے ہیں وہاں بعض کسان اپنے مویشی سستے داموں بیچ رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر جنوبی پنجاب کے وہ علاقے جوسیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہے ہیں وہاں مویشیوں کی قیمتیں 30 سے 40 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔اس کے علاوہ جنوبی پنجاب سے مویشی لاہورلانے کے لئے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں جس کااثرمویشیوں کی قیمت پرہی پڑتا ہے۔

ڈی جی خان کی ضلع انتظامیہ کے مطابق لاہورسمیت مختلف شہروں سے بیوپاری مویشی خریدنے کے لئے یہاں کا رخ کررہے ہیں، سب سے زیادہ نقصان کوہ سلیمان میں ہوا ہے جہاں پانی کے ریلوں میں مقامی کسانوں کے ریوڑ بہہ گئے ،ان علاقوں میں لوگ زیادہ تر بھیڑ، بکریاں پالتے ہیں۔

پنجاب وائلڈلائف ترجمان ڈاکٹرآصف رفیق کے مطابق حالیہ سیلاب اوربارشوں سے پنجاب میں دولاکھ 5 ہزار106 چھوٹے ،بڑے جانورہلاک ہوئے ہیں۔ اس وقت پندرہ سو قریب جانورکیمپوں جبکہ ساڑھے 6 ہزارسے زائد جانورکھلے مقامات پرموجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مویشیوں کو وبائی امراض سے بچانے کے لئے ویکسی نیشن کا عمل بھی جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے