سیلاب سے پولٹری انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، پاکستان پولٹری

کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن سدرن ریجن کے چیئرمین سلمان منیر نے کہا ہے کہ سیلاب نے پولٹری انڈسٹری کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ، اورسیلاب کی وجہ س سندھ اور بلوچستان میں 70 فیصد فارم تباہ ہوگئے ہیں۔منگل کوکراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلمان منیر نے کہا کہ پیٹرول ، ڈیزل ،بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی کاروبار کو مزید متاثر کررہا ہے،ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ پولٹری انڈسٹری کو بچانے کیلئے پولٹری انڈسٹری پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی جائے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے رہنماﺅں نے کہا کہ حکومت سندھ پولٹری فارم زمینوں کی لیز کی تجدید بھی نہیں کررہی ،حکومت سیلاب کی وجہ سے پولٹری فارمز پر بجلی کے بلوں کو معاف کرے۔

سلمان منیر نے مزید کہاکہ حکومت سندھ تجدید کرکے 99 سالہ پولٹری فارمز کو لیز جاری کرے،چیئرمین ایسوسی ایشن نے بتایا کہ بلوچستان کے پولٹری فارمز کو دوبارہ تعمیر کرنا فی الحال ناممکن ہے دوسری جانب مرغیوں کی ادویات اور خوراک میں 60 فیصد کا ہوشرباءاضافہ ہوگیا ہے اورمرغیوں کی خوراک مکئی چھ ماہ میں1600 سو روپے من سے 25 سو روپے من ہوگئی ہے،حکومت سستی مرغی اور انڈے کیلئے مکئی کی ایکسپورٹ کو فوری روکے۔سلمان منیرنے اس خدشہ کااظہار کیاکہ کراچی میں 80 کلو میٹر پر محیط پولٹری اندسٹری لیز کی تجدید نہ ہونے سے بند ہوجائیں گی، حکومت فوری طور پربجلی کے ٹیرف میں کم از کم چھ ماہ کا ریلیف دے ورنہ کراچی میں مرغی کی قیمت میں اضافہ ہوجائیگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے