الزائمر۔۔۔۔بھول جانے کی بیماری

تحریر : محمد وقاص بٹ

وہ شاعر نے کہا تھا
اُسے اب بھول جانے کا ارادہ کر لیا ہے
بھروسہ غالباً خود پر زیادہ کر لیا ہے
شاعر اپنے محبوب کو بھولے نہ بھولے مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے بھولنا ایک بیماری ہے جس کا علاج ہر صورت ضروری ہے، یہی وجہ ہے پاکستان سمیت دنیا بھر میں21 ستمبر کو الزائمر کی بیماری یعنی بھول جانے کی بیماری کے سد باب کا دن منایا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیابھر میں تقریباً 55 ملین انسانوں کو بھولنے کا مرض لاحق ہے۔ ان مریضوں میں سے 60 فیصد کا تعلق کم یا درمیانے درجے کی آمدن رکھنے والے ممالک سے ہے۔ جس تناسب سے الزائمرا یعنی بھولنے کی بیماری بڑھ رہی ہے، اندازہ ہے کہ 2030 تک اس کی تعداد 78 ملین جبکہ 2050ء میں یہ تعداد 139ملین سے تجاوز کرسکتی ہے۔
بھولنے کی بیماری کا مرض دنیا بھر میں اوسطًا عمر کے اضافے کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے اور یہ عام طور پر پینسٹھ سال کے بعد لاحق ہوتا ہے ۔ پاکستان میں اس مرض کے اعداد و شمار پر بات کریں تو تشخیص شدہ مریضوں کی محتاط ترین تعداد تقریباً سات لاکھ سے زائد ہے جبکہ پاکستان میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے۔الزائمر ڈیمینشیا کی ایک قسم ہے جبکہ ڈیمینشیا بیماریوں یا دماغی چوٹ کی وجہ سے یادداشت، سوچ اور طرز عمل پر پڑنے والے منفی اثرات کے زیادہ تر افراد میں 65 سال کی عمر کے بعد ہی اس کی تشخیص ہوتی ہے۔اگر اس سے پہلے ہی اس کی تشخیص ہوجائے تو اسے عام طور پر الزائمر کی بیماری کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ ویسے تو الزائمر کا کوئی علاج نہیں ہے البتہ ایسے علاج موجود ہیں جن سے اس مرض کی شدت کم ہوسکتی ہے۔اگرچہ بہت سے لوگوں نے الزائمر کی بیماری کے بارے میں سنا ہوگا لیکن آپ کو اس بارے میں شاید درست معلوم نہ ہو کہ یہ ہے کیا۔ یہاں اس بیماری کے بارے میں کچھ حقائق درج ہیں:
الزائمر کی بیماری ایک دائمی حالت ہے۔
اس کی علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں اور دماغ پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے یادداشت میں سستی آجاتی ہے۔
الزائمر کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن دستیاب علاج اس مرض کی شدت کو کم کرنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں اور معیار زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
کوئی بھی الزائمر کا شکار ہوسکتا ہے، لیکن کچھ لوگ اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں
ماہرین نے الزائمر کی بیماری کی کسی ایک وجہ کی نشاندہی نہیں کی لیکن انہوں نے خطرے کے کچھ عوامل کا ضرور بتایاہے:
فیملی ہسٹری: اگر آپ کے خاندان کا کوئی فرد اس بیماری میں مبتلا ہے تو آپ کو بھی الزائمر ہونے کا امکان ہے۔
وراثت: کچھ جینز الزائمر سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس بیماری میں مبتلا افراد کو وقتاً فوقتاً بھولنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کچھ افراد مستقل طور پر کچھ ایسی علامات ظاہر کرتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خراب ہوتی جاتی ہیں:
روز مرہ کی سرگرمیوں پر اثر، جیسے وعدوں کو یاد رکھنے کی اہلیت۔
وزمرہ کے کاموں میں پریشانی۔
مسائل حل کرنے میں مشکلات۔
بولنے یا لکھنے میں دشواری۔
اوقات یا مقامات کے بارے میں الجھن محسوس کرنا۔
مزاج اور شخصیت میں تبدیلی۔
دوستوں، کنبہ اور برادری سے دستبرداری۔
ماہرین کا کہنا ہے الزائمر کی بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں ہے تاہم آپ کے ڈاکٹر اس کی علامات کو دور کرنے اور بیماری کے بڑھنے سے روکنے میں ادویات اور علاج کی سفارش کرسکتے ہیں۔
خواتین میں مردوں کے مقابلے میں الزائمر کی بیماری پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خواتین کی اوسط عمر مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جس کی وجوہات واضح نہیں ہیں۔ مجموعی طور پر الزائمر کے مرض میں مبتلا ہونے کی حتمی وجہ تاحال تحقیق کے مراحل سے ہی گزر رہی ہے۔ جو افراد مستقل بنیادوں پر ذہنی اورجسمانی معمولات کو اپنا کر رکھتے ہیں، ان میں بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ترین ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب فضائی آلودگی بھی ڈیمینشیا کے ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ اگر آ پ اپنے گھر کے کسی بھی فرد میں ایسی علامات دیکھیں تو علاج و تشخیص کے لیے کسی بھی ماہر اِمراضِ دماغ و اعصاب (نیورولوجسٹ) سے فوری رجوع کریں ۔ بعض اوقات اس بیماری کا مریض اہلِ خانہ کیلئے بے شمار مسائل کا باعث بن جاتا ہے۔
یاد رہے الزائمر میں مبتلا انسان کے بیشتر معمولاتِ زندگی، مزاج اور روئیے میں ابتدا میں چھوٹی معمولی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اگر ان پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو ان میں نہ صرف اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ آ خر میں الزائمر کا پیش خیمہ بن جاتا ہے، اس لیے ابتدائی علامات ہونے کی صورت میں معالج سے رجوع کرنا نہایت ضروری اور مفید ہے۔ اگر الزائمر سے مکمل چھٹکارا ناممکن بھی ہو توبروقت تشخص و علاج اس مرض کی پیچیدگیوں اور مرض کو تیزی سے بڑھنے سے روکنے میں معاون و مددگار ثابت ہو تی ہے۔
تمام تشخیص شدہ مریضوں میں جہاں ادویات کا استعمال اہم ہے وہیں سماجی سرگرمیاں بھی مریضوں کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس بھولنے کی بیماری میں چونکہ مریض میں
یا سیت و مایوسی اور اضطراب خاصا بڑھ جاتا ہے لہٰذا نفسیاتی و ذہنی مسائل کی بروقت تشخیص کر کے طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانا نہایت مفید ہوتا ہے۔
مرض کی علامات بڑھنے کی صورت میں مریض ایسی ایسی حرکات کردیتے ہیں جنہیں اہل خانہ نہ صرف حیرت کی نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ ناقابلِ یقین صورتِ حال کا شکار ہو جاتے ہیں لہٰذا ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے اہل خانہ کا خصوصی کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان مریضوں کو ادویات کے ساتھ ساتھ تازہ آب و ہوا ور ماحول کی تبدیلی سے لطف اندوز ہونے کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔
مرض سے محفوظ رہنے کے لیے متوازن غذا بالخصوص سبزیوں اور پھلوں کا استعمال، جسمانی ورزش و چہل قدمی ،ہر قسم کی تمباکو نوشی اور نشے سے مکمل دور رہنے کے ساتھ ساتھ سماجی میل ملاقات، دماغی نشوونما کے لیے مطالعہ بہت
خوشگوار اثرات ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی مثبت سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا نہایت مفید ہے جس سے ذہن متحرک رہے۔
چلتے پھرتے رہنے والے رہتے ہیں محفوظ
بیٹھے بیٹھے بن جاتا ہے ہر اک شخص مریض

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے