حکومت کا بجلی صارفین کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ

وفاقی حکومت کا بجلی صارفین کو ریلیف دینے کا فیصلہ،بلوں میں عائد نیلم جہلم سرچارج ختم، دو سال میں جمع ہونیوالے اربوں روپے صارفین کو واپس دینے کے احکامات جاری کردیئے۔  

وفاقی حکومت نے بجلی کے صارفین کو اربوں روپےکا ریلیف دےکر بلوں پر عائد نیلم جہلم سرچارج ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق پانچ ارب روپے سے زائد جمع ہونیوالاسرچارج صارفین کو واپس کیا جائےگا۔ لیسکو سمیت دیگرکمپنیوں میں دس پیسے فی یونٹ کے حساب سے ہر ماہ نیلم جہلم سرچارج وصول کیا جا رہا تھا ۔

دسمبر دو ہزار اٹھارہ میں نیلم جہلم پاور ہاوس واپڈا کے سپرد کیا گیا،تاہم نیلم جہلم سرچارج عائد رہا۔نوٹیفکیشن میں دسمبر دو ہزار اٹھارہ سے اب تک جمع ہونیوالے سرچارجز کا سپیشل آڈٹ کروانے کے بھی احکامات جاری کئے گئے ہیں، وزارت پاور ڈویژن نے تمام کمپنیوں کے سربراہان کو مراسلہ ارسال کر دیاہے۔

دوسری جانب چند روز قبل وفاقی حکومت نے ماہ رمضان میں انڈسٹریل و کمرشل سیکٹر کو بجلی کی سپلائی معطل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی کی جنریشن میں کمی کی وجہ سے صنعتی سیکٹر کو سپلائی بند کی جائے گی۔ رمضان المبارک میں لیسکو کی ڈیمانڈ4000 میگاواٹ سے تجاوز کر جائے گی، ڈیمانڈ میں اضافے سے بڑے صارفین کو بجلی بند کر کے سسٹم چلایا جائے گا، سحری و افطاری کے اوقات کار میں بجلی سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

نیپرا نے فروری میں استعمال ہونیوالی بجلی پر پینسٹھ پیسے فی یونٹ کے حساب سے اضافہ کر دیا۔نیپرا میں فروری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت ہوئی، نیپرا نے فروری کے بجلی بلوں میں پینسٹھ پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی۔ درخواست کی سماعت چیئرمین توصیف فاروقی کی سربراہی میں ہوئی، قیمت میں اضافے سے صارفین پر چار ارب انسٹھ کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔  فروری میں کم ایل این جی ملنے کے باعث صارفین کو اکیس کروڑ کا ریلیف بھی نہیں مل سکا، اسی طرح زیادہ بہتر معیار والے پلاٹس کو مکمل استعمال نہ کرنے کے باعث صارفین اٹھارہ کروڑ روپے کے ریلیف سے محروم رہے جبکہ صارفین سے فروری کی فیول ایڈجسٹمنٹ اپریل کے بلوں میں وصول کی جائے گی۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے