شدیدگرمی ،قلت آب:کپاس کی کاشت متاثر ہونیکاامکان

کراچی(بزنس رپورٹر)ملک میں پانی کی کمی اور گرمی کی شدت میں اضافے سے کپاس کی کاشت بری طرح متاثر ہونے کا امکان ہے ،دوسری جانب ٹیکسٹائل ملز کے پاس بڑے برآمدی آرڈرز ہونے کے باوجود مقامی کپاس کی دستیابی محدود ہونے اور بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتیں انتہائی اونچی ہونے کے باعث مالکان میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ رواں سال اپریل ،مئی میں درجہ حرارت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے اور نہری پانی کی شدید کمی کے باعث کپاس کی کاشت کیلئے زمینوں کی تیاری متاثر ہوئی جس سے کپاس کا پودا زمین سے باہر آتے ہی جھلس گیا، ملک بھر کے بیشتر کاٹن زونز میں کپاس کی بوائی غیرمعمولی طور پر متاثر ہونے سے رواں سال پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار میں ریکارڈ کمی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں جس سے ٹیکسٹائل ملز کو اپنے برآمدی آرڈرز پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کپاس کی کاشت یقینی بنانے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ زرعی ٹیوب ویلز پر سبسڈی دینے کے ساتھ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلز بڑے پیمانے پر انتہائی آسان شرائط پر کاشتکاروں کو فراہم کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ زمینی پانی دستیاب ہونے سے کپاس کی کاشت بہتر ہونے کے ساتھ زیر زمین کڑوے پانی والے علاقوں کے کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ نہری پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ۔انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل ملز نے اپنے برآمدی آرڈرز پورے کرنے کیلئے رواں سال بیرون ملک سے ایک کروڑ 15لاکھ بیلز(170کلو گرام)درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں ریکارڈ تیزی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز بھی شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے