ترک حکومت کے تعاون سے شہد کی تحقیق کیلئے عالمی معیار کی جدید لیبارٹری کا قیام

دونوں ممالک مشترکہ تعاون اور معاونت سے زراعت کے شعبے کو جدت اور نئی ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کیلئے پرُ عزم‘ ڈاکٹر محمد عظیم خان چیئر مین پی اے آرسی

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے ذیلی ادارے قومی زرعی تحقیقاتی سنٹر میں ترک ادارے ادارہ برائے تعاون و ہم آہنگی ، (TIKA)کے اشتراک سے پاکستان میں مگس بانی کے فروغ کےلئے جدید آلات پر استوار لیبارٹری کے قیام کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ شہد کی تحقیق کےلئے عالمی معیار کی جدید لیبارٹری کا افتتاح ترک سفیر احسان مصطفی یر دکل اور چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا۔ اس موقع پر ترک ادرہ کے سربراہ گوکھان اور دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔ چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ڈاکٹر محمد عظیم خان نے اس موقع پر بتایا کہ پاکستان اور ترکی زرعی شعبہ میں تعلقات کو مظبوط بنانے پر اتفاق رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ تعاون اور معاونت سے زراعت کے شعبے کو جدت اور نئی ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے لئے پر عزم ہیں۔ حال ہی جولائی، 2020 پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (PARC) اور ترکی کے حکومتی ادارہ برائے تعاون و ہم آہنگی (TIKA) کے مابین پاکستان میں مگس بانی (HBRI) کے فروغ کےلئے جدید آلات پر استوار لیبارٹری کے قیام کےلئے ایک باہمی یاداشت پر دستخط کئے گئے تھے۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان میں مگس بانی کی صنعت میں جدت لانے کےلئے اس جدید ترین لیبارٹری کا افتتاح کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتا یا PARC اور TIKA باہمی اشتراک سے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز (NARC) اسلام آباد میں قائم شدہ تحقیقی ادارہ برائے مگس بانی (HBRI) میں "ملکہ مکھی کی پرورش کےلئے تحقیقی لیبارٹری ” کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس میں ملکہ مکھی کی عالمی سطح پر تحقیقی سہولیات کی فراہمی کو مممکن بنایا جائے گا اور ترکی کے مقامی مگس بانی کے جدید طریقوں کو بھی پاکستان میں متعارف کروایا جائے گا۔ کسانوں کو جدید طرز کی مکھیوں کے چھتوں کی فراہمی اور تربیتی ورکشاپس بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ ترک سفیر احسان مصطفی یردکل نے خطاب میں کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کاشتکاروں کو سائنسی بنیادوں پر مگس بانی کی تربیت فراہم کی جائے تاکہ اس شعبہ سے وابستہ افراد اپنی آمدن میں اضافہ کر سکیں۔ مگس بانی کے مشغلے کو وسیع پیمانے پر اختیار کر کے اپنی ذاتی ضرورتیں پورا کرنے کے علاوہ قومی آمدنی میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں۔ مسٹر گوکھان ، ترک ادارہ کے سربراہ نے اس منصوبے میں گہری دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے وقت میں پی اے آر سی کے ساتھ اس تعاون کو جاری رکھا جائے گا اور پاکستانی مکھیوں کی تربیت کے جامع تربیتی پروگرام میں توسیع کی جائے گی۔ قومی زرعی تحقیقی مرکز میں قائم شہد کی مکھیوں کے تحقیقی ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد محمودنے پاکستان میں مگس بانی کے فروغ اور ترویج کے لئے ادارے کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے تقریب کے شرکاءکو بتایا کہ شہد کی مکھیاں ماحولیاتی نظام کا ایک اہم جزو ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی زرعی اور غذائی تحفظ میں بھی اہم کردار اداکر رہی ہیں۔ڈاکٹر راشد نے شہد اور شہد کی مکھیوں بطور پولینیٹر کی اہمیت پر روشنی بھی ڈالی نیز شہد کی جدید لیبارٹریوں کا قیام بھی اہمیت کا حامل ہے جہاں شہد کامعیار حفظان صحت کے اصولوں کو مقدم رکھتے ہوئے تجزیہ ہو سکے اور یہ شہد عالمی مارکیٹوں میں برآمد کیا جا سکے۔ ترک وفد نے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کے مختلف شعبہ جات کا دورہ بھی کیا جن میں انگورا ریبٹری، تلاپیہ فش ہیچری، اینمل سائنسز انسٹی ٹیوٹ اور پی اے آرسی پیٹکو کا ڈسپلے سینٹر شامل ہیں ۔ترک وفد نے تحقیقی کاموں میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے