موسم گرما اور ہمارے جانور

پاکستان کے بیشترعلاقوں کے موسم شدید ہوتے ہیں۔ موسم گرما کی شدت نہ صرف انسانوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔بلکہ جانور بھی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جانوروں کے اعصابی نظام پر گرمی بہت زیادہ اثر کرتی ہے۔ اس وجہ سے جانوروں سے حاصل ہونی والی غذائی اشیاءمثلاً دودھ ، گوشت اور انڈوں کی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔پاکستان میں مویشی خانوں اور مرغی خانوں کی لمبائی شرقاً ،غرباً جبکہ چوڑائی شمالاً، جنوباً رکھی جاتی ہے۔ عمارت کا رخ جنوب کی طرف رکھنا چاہیے۔ تاکہ سردیوں میں سورج کی ترچھی شعاعیں عمارت کے اندر داخل ہو سکیں اور گرمیوں کے موسم میں سورج کی شعائیں شیڈزمیں داخل نہ ہو سکیں۔ یہاں پالتوجانوروں پر زیادہ گرمی کے اثرات کا ذکر بھی ضروری ہے ۔ہر جانور کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے جسم کا درجہ حرارت زیادہ نہ بڑھے ۔ اس لیے شدید گرمی میں ہر جانور زیادہ پانی پیتا ہے اور چرنا کم کردیتا ہے۔

جانور خوراک کی کمی کے باعث نسبتاً کمزور ہو جاتا ہے۔ جسم کی گرمی باہر نکالنے کے لیے قدرتی طور پر سانس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اورجانور ایک دوسرے سے دوررہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر درجہ حرارت اور زیادہ بڑھ جائے توجانور زیادہ تیزی سے سانس لیتا ہے جس کا مقصد جسم سے زیادہ گرمی خارج کرنا ہوتا ہے۔ اگر درجہ حرارت مزید بڑھ جائے تو لڑکھڑانے لگتا ہے اور آخر میں موت واقع ہو جانے کا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے۔اسی طرح کسی جانور کے صاف اور سیدھے بال بھی گرم لو سے بچاتے ہیں اورگرمی خارج کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے بھیڑوں کی بعض نسلیں مثلاً مرینوں نسل کی بھیڑیں، اون اتارنے کے بعد زیادہ گرمی برداشت نہیں کر سکتیں اور بہت کم حاملہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح پرندے شدید گرمی سے بچنے کے لیے اپنی چونچ اور پر کھول دیتے ہیں۔ مرغی کم انڈے دیتی ہے۔ اسکے انڈوں کے خول بھی پتلے ہو جاتے ہیں۔

اگر چھوٹے چوزوں کو 90ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ درجہ حرارت پر رکھا جائے تو اچھی طرح پر ورش نہ پاسکیں گے۔ بالخصوص جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت بڑھ جاتاہے وہاں چھوٹے پرندوں کو پالنا ایک پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے ۔مغربی ممالک میں جانوروں کو شدید گرمی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ان ملکوں کے جانور ہمارے ملک کے جانوروں کی نسبت 9.6فیصد جلد نشو ونما پا کر نسل کشی کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے لوگ ہمارے مویشی پال حضرات کی نسبت زیادہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ جانوروں کی طاقت بحال رکھنے کے لیے انہیں زیادہ اور قوت بخش خوراک دیں کیونکہ زیادہ ریشے دار اجزاءوالی خوراک جانوروں کو ہضم کرنے میں دقت ہوتی ہے، اس سے پیاس بھی زیادہ لگتی ہے اور جانور گوبر کے ساتھ غیر ہضم شدہ اجزاءزیادہ مقدار میں خارج کرتے ہیں۔ اس کے برعکس تازہ چارہ جات میں پانی کی مقدار 80فیصد سے زیادہ ہوتی ہے اور اُن میں ریشہ دار اجزاءنسبتاً کم ہوتے ہیں۔ ایک درجن انڈوں میں ادھا لیٹر پانی ہوتا ہے۔ انڈے نہ دینے والی مرغیاں ایک کلو خوراک کے ساتھ ساتھ ایک لیٹر پانی پیتی ہیں۔ جبکہ انڈے دینے والی مرغیاں خوراک کی مقدار کے ساتھ نسبتاً پانی زیادہ پیتی ہیں۔تجربات سے یہ معلوم ہو ا ہے کہ اگر چوزوں کے سامنے ہر وقت پینے کا پانی موجود رہے تو وہ مقرر اوقات پر پانی نسبتاً زیادہ پیتے ہیں۔ اگر چوزوں کو چند گھنٹے پیاسا رکھا جائے اور پھر پانی دیا جائے تو ان میں اموات واقع ہو سکتی ہیں۔

نئی فصل کے اناج میں پانی28فیصد تک ہوتا ہے اورآخر میں یہ مقدار 13فیصد رہ جاتی ہے، اس لیے چوزوں کو خوراک دیتے وقت نمی کی اس زائد مقدار کا خیال رکھا جائے۔ عام طور پر جانوروں کے لیے 60سے73درجے فارن ہائیٹ درجہ حرارت نارمل ہے۔ لیکن مرغیاں 50سے75درجے فارن ہائیٹ پر خوش رہتی ہیں۔ اس سے زیادہ درجہ حرارت ان کے لیے خطرناک ہے۔ زیادہ درجہ حرارت پر مرغیوں پر ٹھنڈا پانی چھڑکا جائے ۔ شدید گرمی میں پانی پینے کے برتنوں کی تعداد خوراک کے برتنوں کی تعداد سے دوگنی کر دینی چاہیے۔

دوسرے جانوروں کو بھی کھلی ہوادار اور سایہ دار جگہوں پر رکھیں۔ جانوروں سے کڑکتی دھوپ میں زیادہ کام نہ لیں۔ مویشیوں کو چند میل چلانے کے بعد سایہ دارجگہ پر آرام کریں۔ گائے بھینس کو گرمی کے اوقات میں پانی سے نہلائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے