ہم فٹنس کو کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟

تحریر : ڈاکٹر سعدیہ اقبال

آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ مختلف عمرمیں کوخود کس طرح فٹ رکھ سکتے ہیں، یہ کوئی مشکل کام نہیں ۔سب سے پہلے تو بچے کی اچھی صحت بچپن کی خوراک پر منحصر ہے۔بچے کے لئے ماں کا دودھ انتہائی ضروری ہے اس سے ہڈیاں مضبوط اور جسم طاقتور ہوتا ہے۔اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوتو اچھی قسم کا دودھ پلایا جائے کیونکہ اسی عمر میں ہڈیوں کی مضبوطی جوانی میں بھی کام آتی ہے ۔ جوں جوں بچہ بڑا ہوتا ہے اسے متحرک رکھنے کی ضرورت ہے۔ گھر کے اندر اور باہر کھیلنے کے لئے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ آئوٹ ڈور گیمز بہت ضروری ہیں اس سے وزن بھی بہتر ہوتا ہے اور بچہ بھی چست و توانا رہے گا۔ بچوں کے ساتھ خود بھی کھیلیں ،پوری فیملی کے ساتھ کوئی فن کر نے سے بچے جسمانی اور ذہنی طور پر توانا ہوتے ہیں مثلاً کسی اونچائی پر چڑھنے کی کوشش کیجئے ۔ رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کریں ۔ پارکوں میں ایڈونچر کیجئے یا ایسی کوئی سرگرمی بھی ہو سکتی ہے۔ بچوں کا وزن نہیں بڑھنا چاہئے، بچپن میں بڑھنے والا وزن کئی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے چنانچہ ورزش بھی ضروری ہے۔ضرورت پڑنے پر فزیو تھراپسٹ سے بھی رابطہ کی جا سکتا ہے۔
18سے 35سال کی عمر میں:یہ وہ عمر ہے جس میں نوجوان عملی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اس عمر میں لائف سٹائل یکسر بدل جاتا ہے، بچپن کی آسان زندگی ختم ہو جاتی ہے اور ایک انتہائی اچھے مستقبل کے لئے دن بھر کا مصروف شیڈول نوجوان کی میز پر پڑا رہتا ہے۔ اس عمر میں بہت زیادہ کھیل کود کرنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں اس عمر میں یونیورسٹیوں ، کالجوں اور نوکری جیسی اہم منزلیں نوجوانوں کے سامنے ہوتی ہیں،اس کے لئے کام کیجئے۔ پارٹیوں میں شرکت بھی کیجئے، دعوتیں ضرور اڑائیں لیکن توازن کے ساتھ ۔ کوئی فٹنس کلب جوائن کیجئے تاکہ صحت برقرار رہے۔ اسی عمر میں دوسروں سے تعلقات قائم ہوتے ہیں ۔ کھیل کے میدان اور جمنزیم صحت کو برقرار رکھنے کے علاوہ نئے تعلقات بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
35سے 60سال کی عمر میں:یہ عمر کئی حوالوں سے پریشان کن ہوتی ہے۔ شادی کے قرضے چکانا پڑتے ہیں۔ بچے کی فیسیں دینے کے لیے ادھار لینا پڑتا ہے یا گھر چلانے کے لیے مزید پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بینک سے چند منٹوں میں گاڑی تو مل جاتی ہے۔ لیکن قسطوں کی ادائیگی 24گھنٹے سر پر سوار رہتی ہے۔ اس سے بچپن اور جوانی کی سرگرمیاں یکسر ختم ہو جاتی ہیں ۔ پریشانیاں اور تنہائیاں ایسے نوجوانوں کا مستقبل ہوتی ہیں ۔ وزن بڑھنا شروع کر ہو جاتا ہے ۔ نظام ہاضمہ سست پڑ جاتا ہے اور نوکری بوجھل دکھائی دینے لگتی ہے۔سائنسدانوں نے اس کا بھی حل بتایا ہے ۔کم از کم 20سے 30منٹ تک ہفتے میں دو تین مرتبہ تیز قدموں سے واک کیجئے ،اس سے چستی بھی پیدا ہو گی اور فٹنس بھیرہے گی۔ کوئی جم جوائن کیجئے یا کسی ٹرینر سے ہی مدد لے لیجئے تاکہ وہ آپ کو مفید ورزشوں کے بارے میں بتائے ورنہ اس عمر میں قبل از وقت آرتھرائٹس بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا جوڑوں کی ہڈیوں کو موومنٹ کے قابل رکھیے اور پٹھوں کی مضبوطی کے لیے کوئی آسان سی ورزش کیجئے۔
61سال سے زائد عمر میں: 60سال کی حد کو پار کرنے والوں کیلئے کسی بھی قسم کی ورزش کرنا آسان نہیں۔ کیونکہ پٹھے کمزور پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھیے استعمال نہ ہونے والے اعضاء بیمار ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا گھر کے اندر ہی کوئی ہلکی پھلکی ورزش کیجئے۔ وزن اٹھانے والی ورزش بہترین ہے۔ اس سے پھیپھڑے اور گھٹنوں کی ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر ممکن ہو تو یوگا کی کوئی کلاس لے لیجئے۔ٹانگوں کو مضبوط رکھنے کے آسان ترین طریقہ انہیں متوازن رکھنا ہے۔ ایک ٹانگ پر کھڑے رہنے کی ورزش بھی کیجئے۔ آپ کسی میز یا دیوار کی مدد بھی لے سکتے ہیں۔ باری باری دونوں ٹانگوں پرروزانہ ایک دفعہ کھڑے رہنے سے ٹانگوں کی ہڈیاں ٹھیک رہیں گی۔ اگر یہ ورزش ریلیف نہ دے تو پھر روزانہ کیجئے۔ اور اگر ممکن ہو تو کسی دیوار کے سہارے باری باری ایک ٹانگ پر کھڑے ہوتے وقت آنکھیں بھی بند رکھیے ۔ آنکھیں بند کرنے سے دماغ کو سکون ملتا ہے۔ اس سے کولہے اور پنڈلیوں میں غیر معمولی قوت پیدا ہوگی۔اس کے علاوہ ہلکی پھلکی ورزشیں کر سکتے ہیں ، یہ ورزشیں سونے سے پہلے ضرور کر لیجئے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ کسی بھی وقت گر نے کی صورت میں ہڈیاں اتنی مضبوط ضرور ہوں گی کہ فریکچر نہیں ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے