آدمی سستے تیتر مہنگے

تحریر : ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

اڑتے ہوئے پرندے کتنے خوبصورت لگتے ہیں کبھی یہ صیاد کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں کبھی قید کر دئیے جاتے ہیں۔یہ بے زبان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ
جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے غم دل کو کھا رہا ہے
آزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والے
میں بے زباں ہوں قیدی! تو چھوڑ کے دعا لے
لیہ کے صحرا میں بچھڑی کونج کی کرلاہٹ کس طرح دل کو زخمی کر دیتی ہے۔یہ نازک نازک پروں والے معصوم پرندے بڑے طویل سفر کرتے ہیں۔یہ ننھے پرندے عجیب راہوں کے راہی ہوتے ہیں۔ انجان راستوں کے راہی ‘ پراسرار راہوں کے راہی۔میں جب لیہ میں تعینات تھا تو پتہ چلا کہ ایک شخص نے کونج پکڑی جس کی گردن میں روس کے کسی تحقیقاتی ادارے کا پتہ درج تھا۔ میں نے اس چھلے کو اتارا اور روس کے تحقیقاتی ادارے کو خط لکھا۔ ادارے نے جو روسی پرندوں کی نقل و حرکت پر تحقیقات کر رہا تھا مجھے شکریہ کا خط بھیجا۔
اسی دوران سعودی عرب کے وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز بھی2 مرتبہ اپنے قافلے کے ساتھ لیہ آئے اور چوبارہ کے علاقے میں قیام فرمایا۔روس سے آنیوالے تلور کا شکار بازوں سے کیا گیا۔تلور ایک قیمتی پرندہ ہے جو موسم سرما میں ڈیرہ غازی خان ‘ لیہ ‘ بھکر اور راجن پور کے اضلاع کی طرف ہجرت کرتا ہے۔ یہ ہجرت خوراک کی تلاش کیلئے ہوتی ہے ۔اب بھی لیہ جنگلی حیات کے لحاظ سے مالا مال ہے ۔ وسیع و عریض صحرا اور کھیت ہر چرند پرند کیلئے بڑے پرکشش ہیں۔ ان دنوں تیتروں اور بٹیروں کی بڑی فراوانی تھی۔ دور دراز سے لوگ شکار کھیلنے کیلئے لیہ آتے تھے۔ جن جن علاقوں میں شہزادہ نائف بن عبدالعزیز نے شکار کھیلنا ہوتا ہم پہلے سے ہی دفعہ 144 کا نفاذ کر دیتے تاکہ شکاری وہاں شکار نہ کھیل سکیں۔صرف شاہی مہمانوں کیلئے ایسا کیا جاتا تاکہ شکار محفوظ رہے اور وہ بآسانی شکار کھیل سکیں۔
پھرعام پیشہ ور شکاریوں نے لیہ میں تباہی مچانا شروع کر دی۔میانوالی سے میرے ایک ملنے والے میرے کسی عزیز کا رقعہ لے کر آئے۔رقعہ بڑا دلچسپ تھا : ”عزیزِ من ! خان صاحب کو آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔انہیں نوکری نہیں مل رہی۔ سنا ہے آپ کے علاقے میں باز بہت ہیں۔یہ ایک شکاری کے ہمراہ آ رہے ہیں ان کی مدد کریں۔انہیں لیہ کے علاقے میں شکار کھیلنے دیں۔خدا کرے کوئی باز پکڑ لیں تو ان کا سال کا خرچہ نکل آئے گا۔(اس وقت باز کم از کم ایک لاکھ روپے میں بکتا تھا) ۔‘‘ میں نے رقعہ پڑھا اور خان صاحب سے عرض کی کہ یہ جرم ہے۔۔ ان دنوں محکمہ شکاریات کے افسر میرے پاس آئے اور کہنے لگے: آپ مدد فرمائیں اور بطور اسسٹنٹ کمشنر اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ شکاریوں پر سختی کریں۔ پیشہ ور شکاری رات کو تیتروں کو جال کے ذریعے پکڑ لیتے ہیں اور کثیر تعداد میں بیچ ڈالتے ہیں۔ دن کو بھی فصلوں میں جال لگا کر تیتروں اور بٹیروں کو پکڑ لیتے ہیں۔ میں نے محکمہ شکاریات کو بتایا کہ آپ چالان پیش کریں۔ میں صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے پاس کافی چالان آنا شروع ہو گئے کئی ملزم رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ میں نے ہر ملزم کو تین ہزار روپیہ جرمانہ اور تین ماہ قید کی سزا سنائی۔ اکثر ملزموں نے اقبالِ جرم بھی کر لیا اور توبہ بھی کی کہ ہم آئندہ ایسی حرکت نہیں کریں گے۔
اس سختی سے حالات کافی بہتر ہو گئے اور پیشہ ور شکاری خوب ڈر گئے۔چند دنوں کے بعد امتیاز مسرور صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ کے پاس پولیس اور انتظامیہ کی ماہانہ میٹنگ تھی۔تمام پولیس اورانتظامیہ کے افسران موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام تحصیلوں کی کارکردگی دیکھی۔سیکرٹری نے کہا کہ جناب فلاں فلاں جرائم کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنرنے 304 الف کے مقدمات میں بھی جرمانہ کی سزائیں دی ہیں۔دفعہ 304 الف تعزیرات پاکستان اس وقت لاگو ہوتا ہے جب ٹریفک کے مقدمات میں اتفاقیہ موت واقع ہو جائے یا کوئی ٹرک ڈرائیور کسی کو ہلاک کر ڈالے۔متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر نے ٹریکٹر ڈرائیور کو ایسے مقدمات میں صرف ایک ہزار روپیہ جرمانہ کیا تھا۔ چند اسی قسم کے ٹریفک حادثات میں موت واقع ہو جانے پر عدالت نے ڈرائیور حضرات کو ایک ایک ہزار روپیہ جرمانہ کیا تھا اور کوئی قید کی سزا نہ دی ۔یہ سنتے ہی ڈپٹی کمشنر صاحب کا چہرہ انگارے کی طرح سرخ ہو گیا۔ فرمانے لگے ”مجھے سمجھ نہیں آتی میں کیا سن رہا ہوں۔ایک عدالت تیتروں کے شکار کے مجرم میں تین تین ہزار روپے اور تین تین ماہ قید کی سزا سنا رہی ہے اور دوسری طرف ایک عدالت قاتل ڈرائیوروں کو صرف ایک ہزار روپیہ جرمانے کی سزا سنا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا : ”آدمی سستے ہیں اور تیتر مہنگے ‘‘۔
ڈپٹی کمشنر صاحب بڑے غصے میں کافی دیر تک یہ جملہ دہراتے رہے اور پھر میٹنگ برخاست کر دی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے