شکاری نایاب نسل کے ہرن کا شکار کرکے کھاگئے

 راولپنڈی: تھانہ چونترہ کے علاقے میں نایاب نسل ہرن کے شکار اور ذبح کرنے کی موبائل فوٹیج سامنے آنے پر محکمہ وائلڈ لائف پنجاب نے مقامی پولیس کے ساتھ مل کر ملزمان کی تلاش شروع کردی۔

محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق نایاب نسل کا ہرن ہوگ ڈئیر دریائے سندھ کے کنارے پایا جاتا ہے، راولپنڈی کی نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں رہنے والے ایک شخص نے پانچ ہرن بطور پالتو جانور پال رکھے ہیں ۔ شفٹنگ کے دوران ایک ہرن بھاگ گیا تھا جس کو شکاریوں نے خون خوار کتوں کی مدد سے پکڑکر ذبح کردیا۔

گزشتہ روز سوشل میڈیا کے ذریعے نایاب نسل کے ہرن کو شکار کرنے اور ذبح کرنے کی موبائل فوٹیج منظر عام پر آئی جس پر محکمہ وائلڈ لائف حرکت میں آیا اور کھوج لگانے پر پتا چلا کہ فوٹیج راولپنڈی کے نواحی علاقے چونترہ کی ہے جہاں چند شکار ی خون خوار کتوں کی مدد سے نایاب نسل کے ہرن کو پکڑتے ہیں، وائلڈ لائف حکام کا کہنا تھاکہ کتوں کے حملے سے ہرن خاصا زخمی ہوگیا تھا جس کو پہلے شکاریوں نے بھینسوں کے باڑے میں باندھے رکھا اور کچھ دیر بعد ذبح کرکے گوشت تقسیم کردیا اور پکا کر کھاگئے۔

نایاب نسل کا ہرن ہوگ ڈئیر دریائے سندھ کے کناروں پر پایا جاتا ہے جبکہ راولپنڈی کی نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں ایک شخص نے پانچ ہرن پال رکھے ہیں ، حکام کا کہنا تھاکہ مقامی شخص کے پاس ہرن کی نایاب نسل کو بطور پالتو جانور پالنے کا لائسنس بھی موجود ہے، چند روز قبل ہرن شفٹنگ کے دوران بھاگ کر چونترہ گاوں کے قریب جنگلوں میں چھپ گیا تھا جس کو شکاریوں نے پکڑ کر ذبح کردیا، حکام کا کہنا تھاکہ مقامی پولیس کی مدد سے نایاب نسل کے ہرن کا شکار کرنے والے شکاریوں کی تلاش شروع کردی ہے.

ادھر ترجمان پولیس کا کہنا تھاکہ ایس ایچ او تھانہ چونترہ نے فوٹیج میں نظر آنے والے شکاریوں کے حوالے سے معلومات اکھٹی کرنا شروع کردی ہیں جبکہ محکمہ وائلڈ لائف حکام سے بھی رابطہ کرلیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی طریقے سے ہرن کا شکار کرنے والے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے، تاحال پولیس کو کوئی کامیابی نہیں ملی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے