وہ حقائق جن کے بارے میں شائد آپ لاعلم ہوں

تحریر : رانا حیات

آج 21ویں صدی میں بھی ماہرین فلکیات کائنات کی وسعتوں کو مانپنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ کائنات انتہائی پراسرار چیزوں پر مبنی بے شمار ستاروں ، سیاروں اور بلیک ہولز کے مجموعے کا نام ہے۔ یہ تو رہی کائنات اور اس کی وسعتوں کی بات، ہماری اس چھوٹی سی دنیا میں بھی کئی ایسی پراسرار اور دلچسپ چیزیں ہیں جن کا ہونا شاید ہم نہ سمجھ پائیں۔ بے شک دنیا ایک پراسرار جگہ ہے اور متعدد ایسے حقائق پر مبنی ہے جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ہم بہت کچھ جاننے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم بہت کم جانتے ہیں۔ آج ہم روزنامہ دنیاکے قارئین کو دنیا کے مختلف شعبوں سے وابستہ چند ایسے حیران کن حقائق بیان کرنے جارہے ہیں جو یقینا آپ کے علم میں اضافے کا باعث بنیں گے۔
پراسرار آبشار: امریکی ریاست Minnesota میں واقع Devil’s Kettle نامی آبشار کو پراسرار آبشار قرار دیا جاتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس آبشار کا پانی زمین پر موجود ایک دیوقامت گڑھے میں گرنے کے بعد کہاں جاتا ہے؟ محققین انگنت کوششوں کے باوجود یہ پتہ کرنے میں ناکام ہے کہ اس گڑھے کا وہ دوسرا سرا کونسا ہے جہاں سے آبشار کا پانی واپس باہر آتا ہے۔ ماہرین نے اس راز سے پردہ اٹھانے کیلئے متعدد بار کوشش کی اور کئی بار گیندیں اور لکڑی کے ٹکڑے بھی اس گڑھے میں پھینکے لیکن پھر یہ چیزیں کہیں غائب ہو جاتی ہیں۔
سفید رنگ کا سورج:وہ تمام لوگ جو دوپہر کو پیلی دھوپ سے عاجز آئے ہوئے ہیں ان کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ماہرین فلکیات کے مطابق سورج دراصل سفید رنگ کا ہوتا ہے لیکن دنیا کی آب و ہوا کے باعث اس کا رنگ ہمیں پیلا دکھائی دیتا ہے۔
کم نیند سے دماغ سکڑ جاتا ہے:کیا آپ جانتے ہیں کہ کم دورانیے کی نیند کے باعث آپ کا دماغ سکڑ سکتا ہے؟ جی ہاں نیورولوجسٹ کی حالیہ ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایسے لوگ جو بہت کم وقت کیلئے سوتے ہیں یا جنہیں کم خوابی کے مسائل درپیش ہیں ان کے دماغ کا سائز بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
سبز آنکھیں انتہائی نایاب:سبز آنکھوں کے حامل افراد نیلی آنکھوں والوں پر غالب آچکے ہیں۔ لیکن دنیا میں بہت کم افراد ایسے ہیں جن کی سبز آنکھیں ان کی جینز کی مرہونِ منت ہیں۔ دنیا کی صرف 2 فیصد آبادی ایسی ہے جو سبز آنکھوں کی مالک ہے۔
مشہور زمانہ فلم ”گاڈ فادر ‘‘ میں اصلی گھوڑے کا سر:آپ میں سے بیشتر لوگوں نے مشہور زمانہ فلم ”گاڈ فادر ‘ ‘ ضرور دیکھی ہوگی اور اس کا وہ گھوڑے کے سر والا منظر بھی ضرور یاد ہوگا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس سین میں استعمال ہونے والا گھوڑے کا سر اصلی ہے۔ فلم کی پروڈکشن ڈیزائنر نے اس کا انتظام کتے کا کھانا تیار کرنے والی ایک کمپنی کی مدد سے کیا تھا۔
سوشل میڈیاکا ملازم ہونا قابلِ رشک بات:یہ تو خیر سب ہی جانتے ہیں کہ ایک مشہور سرچ انجن ویب سائٹ اپنے ملازمین کا بے حد خیال رکھتی ہے۔ مفت کھانا، پینا، ورزش کیلئے سہولیات، لانڈری کی سہولیات اور گاڑی کا دھونا وغیرہ سب کمپنی کے ذمے ہوتا ہے۔ مگر حالیہ رپورٹ کے مطابق اگر کوئی ملازم انتقال کر جائے تو اس کے لواحقین کو کمپنی دس سال تک ایک ملازم کی آدھی تنخواہ دیتی ہے۔
البرٹ آئن اسٹائن نے کبھی موزے نہیں پہنے:البرٹ آئن اسٹائن کا بے ڈھنگا حلیہ بھی ان کی بے پناہ شہرت کا باعث ہے۔بے ترتیب بالوں کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آئن اسٹائن نے کبھی موزے ( socks ) نہیں پہنے۔ چاہے سمندری سفر پر جانا ہو یا پھر وائٹ ہاؤس ڈنر کیلئے، آئن اسٹائن نے کبھی موزوں کا استعمال نہیں کیا۔ آئن اسٹائن کے نزدیک موزے پہننا ایک سر درد تھا کیونکہ ان میں سوراخ ہوجاتے ہیں۔آئن اسٹائن کا کہنا تھا کہ موزے اور جوتے کیوں ایک ساتھ پہنیں جب ایک کے پہننے سے بھی بات بن سکتی ہے؟
قیدیوں پر نظر رکھنے کے لیے راج ہنس کا استعمال:شمال مشرق برازیل میں ایک جیل ایسی بھی واقع ہے جہاں قیدیوں پر نظر رکھنے کیلئے راج ہنس نامی پرندے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس جیل کو 153 قیدیوں کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیل کے سکیورٹی حکام قیدیوں پر نظر رکھنے کیلئے نت نئے طریقے دریافت کرتے رہتے ہیں۔ یہاں دو راج ہنس ان قیدیوں پر نظر رکھتے ہیں اور جیسے ہی کوئی غیر معمولی حرکت دیکھتے ہیں اپنے شور سے انتظامیہ کو آگاہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے