پیدائشی بچوں میں یرقان کا پتا لگانے والا دنیا کا پہلا سسٹم

ٹوکیو: عموماً پیدائشی بچوں کی اکثریت کسی نہ کسی درجے کے یرقان (جونڈائس) کی شکار ہوجاتی ہے۔ اب فوری طور پر تشخیص کے لیے استعمال میں آسان آلہ بنایا گیا ہے۔ ساتھ یہ نظام بچوں کی دیگر جسمانی کیفیات پر بھی نظررکھتا ہے۔ اس آلے کو پہنا جاسکتا ہے جو اپنی نوعیت کا پہلا ویئرایبل بھی ہے۔

پیدائشی بچوں کی اکثریت کے خون میں بلِی ریوبن کی سطح بڑھنے سے بچے کی رنگت پیلی پڑجاتی ہے۔ معاملہ بگڑنے پر بچے کی جان پر بھی بن آتی ہے اور عموماً دماغ متاثر ہوتا ہے۔ اگرپیدائشی بچے کو یرقان ہوجائے تو دھوپ میں بٹھانے یا پھر نیلی روشنی سے جسم کا بلی ریوبِن بکھرجاتا ہے اور پیشاب کے راستے خارج ہوجاتا ہے۔

لیکن نیلی روشنی کی درست مقداربرقراررکھنا ایک مشکل عمل ہوتا ہے۔ اسی لیے اب اس آلے سے بلی ریوبن کی ہمہ وقت درست پیمائش کی جاسکتی ہے۔ دنیا کے پہلے پہنے جانے والے سینسر کی بدولت خون میں آکسیجن کی مقدار اور نبض بھی ناپی جاسکتی ہے۔

یوکوہاما نیشنل یونیورسٹی کے ڈاکٹر ہیروکی اوٹا نے یہ آلہ بنایا ہے جس کی تفصیل تین مارچ کو شائع کی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں آنکھ کھولنے والے 60 سے 80 فیصد بچوں کو یرقان لاحق ہوتا ہے۔ اس درجے پر یرقان پر نظررکھنا اور علاج کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس طرح فوٹوتھراپی اور علاج آسان ہوجاتا ہے۔

اس وقت دنیا بھر کے میٹرنٹی ہوم میں بلی ریوبینو میٹرز استعمال ہوتے ہیں لیکن اب تک ایسا کوئی آلہ نہیں بن سکا جو ایک وقت میں خون میں آکسیجن اور بچے کی نبض دونوں کو نوٹ کرسکتا ہے۔ اس طرح یہ نیا نظام بہت ہی مؤثر ہے۔ یہ آلہ ایک پٹی کی مانند ہے جسے بچے کے سر پر لگایا جاسکتا ہے۔ اس میں ایک خاص لینس بچے کے سر میں روشنی کی بوچھاڑ کرتا ہے اور واپس آنے والی روشنی سے خون میں موجود یرقانی مادے کی پیمائش کرتا رہتا ہے۔

اگرچہ اس وقت یہ ایک قدرے دبیز اور موٹا سینسر ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسے مزید پتلا اور پہننے میں آسان بنایا جاسکتا ہے۔ ابتدائی طور پر اسے 50 ننھے منوں پر آزمایا گیا تو اس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے