اچھالی جھیل : مہاجر پرندوں کی آماجگاہ

تحریر : ایس اے جے شیرازی

وادی سون شمالی وسطی پنجاب کا ایک تاریخی علاقہ ہے، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انسانی ارتقاء کے چند مراحل کا آغاز یہاں سے ہی ہوا۔کوہستان نمک کی اونچی نیچی پہاڑیوں کے درمیان میں تین جھیلیں اچھالی، کھبیکی اور چھلر واقع ہیں جو اچھالی کمپلیکس کے نام سے مشہور ہیں۔ سائبیریا سے ہجرت کر کے آنے والے مہمان پرندے قراقرم اور ہندوکش کے اوپر سے پروازکر کے (گرین روٹ) موسم سرما گزارنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔
جھیلوں میں پانی کی مقدار اور جھیلوں کا رقبہ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ علاقے میں بارش کم ہو تو جھیل کا رقبہ خطرناک حد تک کم ہو جاتا ہے اور لوگ ان جھیلوں میں کھیتی باڑی شروع کر دیتے ہیں۔ جھیلوں کے آس پاس کے علاقوں میں بھی کھیتی باڑی ہوتی ہے، کسی زمانے میں یہاں جنگلی کیکر ہوا کرتے تھے مگر اب انہیں کاٹ کر اراضی کو قابل کاشت بنا لیا گیا ہے اور اب یہاں سفید پولر نظر آتے ہیں۔
کوہستان نمک سے پہاڑی نالے بارشوں کا پانی جھیلوں میں لاتے ہیں اور ایک چھوٹا سا چشمہ انہیں سیراب کرتا ہے، علاقے میں 300ملی لیٹر سے لے کر 800 ملی لیٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ خشک موسم میں جھیلوں کی گہرائی آدھ میڑ سے کم رہ جاتی ہے جبکہ برسات میں یہاں زیادہ سے زیادہ6میٹر تک پانی ہوتا ہے، جھیلوں کا پانی قدرتی طور پر کھارا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ جلد کی کئی بیماریوں کے لئے شافی ہے۔
وائلڈ لائف کی اپیل پر سب سے پہلے 1996ء میں اچھالی کمپلیکس کو جنگلی حیات کے لئے محفوظ قرار دیا گیا۔ 1976ء میں جب پاکستان نے رامسر کنونشن میں شمولیت اختیار کی تو ہجرت کر کے آنے والے نایاب پرندوں کی آماجگاہ ہونے کی وجہ سے اچھالی کمپلیکس کو بین الااقوامی رامسر آب گاہ کا درجہ دے دیا گیا۔ یوں اچھالی کمپلیکس پنجاب کی قدرتی جھیلوں میں سے پہلی آبگاہ ہے جسے رامسرآبگاہ کا درجہ اور بین الااقوامی شہرت ملی۔ یہ رامسر سائٹس نمبر818ہے۔ رامسر آبگاہوں میں شامل پنجاب کے دیگر آبی ذخائرقدرتی نہیں بلکہ دریا پر بیراج بننے کے نتیجے میں معروض وجود میں آئے ہیں۔ رامسر آبگاہ کا درجہ ملنے کے بعد اچھالی کمپلیکس میں متعدد تحقیقاتی منصوبے شروع کئے جا چکے ہیں۔
شمال سے ہجرت کر کے آنے والے پرندوں میں سب سے زیادہ اہم سفید سر والی خوبصورت بطخیں ہیں، جو دنیا میں ختم ہونے کو ہیں۔ اس کے علاوہ لم ڈھینگ سارس، چتکبرافار، سفید آنکھ والی مرغابی ،خاکستری رنگ کے گدوہ اور شاہی عقاب بھی اس علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ پرندوں کے علاوہ مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں لیکن 1982ء میں ان مچھلیوں میں فارس مچھلیاں خاص طور پر Carp Tilpia چھوڑ دی گئی ہیں اور تجارتی بنیادوں پر ماہی گیری ہو رہی ہے۔ مچھلیوں کے اردگرد کوہستان نمک کے پہاڑ عام طور پر ننگے ہیں، کہیں کہیں پھیلائی، سنتھا، کر گدہ اور ٹپائی وغیرہ کے درخت ملتے ہیںجنہیں کاٹ کر لوگ جلانے کے لئے استعمال کر تے ہیں۔
اچھالی اور دھدرد دیہاتوں کے لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ اچھالی کمپلیکس کو ترقی دے کر سیاحتی مقام بنا دیا جائے تاکہ علاقے میں ترقی ہو اور یہاں کے لوگوں کو اس سے فائدہ حاصل ہو۔یہاں بھی ویسے ہی منصوبے شروع کئے جائیں جیسے کلر کہار کو فروغ دینے کے لئے بنائے گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے