محکمہ لائیوسٹاک محکمانہ اداروں کے انکم جنریشن ماڈل پر کام کر رہا ہے: سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن(ر)ثاقب ظفر

محکمانہ اداروں کا انکم جنریشن ماڈل بنایا جائے گا تاکہ پرچی فیس ، ونڈہ اور محکمانہ فارمز پر کاشت کی گئی فصلوں سے حاصل ہونے والی آمدن بابت بہتر تجاویز پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے‘ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن)، ایڈیشنل سیکرٹری (ٹیکنیکل)، ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر محکمانہ افسران بھی شریک ہوئے

لاہور: محکمہ لائیوسٹاک پنجاب محکمانہ اداروں کے انکم جنریشن ماڈل بنانے کے لئے کوشاں ہے تاکہ وسائل کا بہترین استعمال ممکن بنایا جا سکے یہ بات سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے محکمانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اس اجلاس کا مقصد شعبہ لائیوسٹاک میں وسائل کے بہترین استعمال بارے مشاورت کرنا تھا۔ اجلاس کے دوران مختلف امور جن میں پرچی فیس، فیڈ سٹف /ونڈہ ،پولٹری فارمز رجسٹریشن اور لائیوسٹاک فارمزکی آمدن شامل ہیں پر مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر) ثاقب ظفر کا کہنا تھا کہ پنجاب لائیوسٹاک پالیسی کے اجراءکے بعد محکمہ ڈیٹا ڈیجیٹلائزیشن سمیت تمام اُن امور پر توجہ دے رہا ہے جن سے مجموعی طور پر دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ ہوسکے۔ اس سلسلہ میں محکمانہ اداروں کا انکم جنریشن ماڈل بنایا جائے گا تاکہ پرچی فیس ، ونڈہ اور محکمانہ فارمز پر کاشت کی گئی فصلوں سے حاصل ہونے والی آمدن بابت بہتر تجاویز پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کی رجسٹریشن کا ڈیٹا بہت جلد آن لائن دستیاب ہو گا جس کا مقصد چھوٹے فارمرز تک سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل (توسیع) اور ڈائریکٹر جنرل(پروڈکشن )کی طرف سے دی گئی مختلف تجاویز زیر بحث آئیںجن پر سیکرٹری لائیوسٹاک کا کہنا تھا کہ دیگر سیٹیک ہولڈرز سے بھی مشاورت کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن)، ایڈیشنل سیکرٹری (ٹیکنیکل)، ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر محکمانہ افسران بھی شریک ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے