پاکستان بھر سے لائیوسٹاک سے وابستہ کسانوں کیلئے تین روزہ تربیتی ورکشاپ

اسلام آباد (لائیوسٹاک پاکستان) پاکستان بھر سے لائیوسٹاک سے وابستہ ہر پیمانے کے کسانوں کیلئے ترقیاتی پروگرام کے فروغ کیلئے تین روزہ تربیتی ورکشاپ وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرامز کے ذریعے تقریبا 3 لاکھ چھوٹے کسانوں کو فنی اور مالی معاونت فراہم ہوچکی ہے۔ سید فخر اماماسلام آباد میں پاکستان بھر سے لائیوسٹاک کے ماہرین کا لائیوسٹاک اور ہر پیمانے کے کسانوں کو کاروباری اور ترقیاتی پروگرام کے فروغ کیلئے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام کو آج اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی دعوت دی گئی تھی اس ورکشاپ میں چیف ایگزیکٹیو لائیوسٹاک اینڈ ڈئری ڈویلپمنٹ بورڈ ڈاکٹر خورشید احمد، مرکزی صدر آل پاکستان جمعیت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن و ڈائریکٹر لائیوسٹاک اینڈ ڈئری ڈویلپمنٹ بورڈ خورشید احمد قریشی،پراجیکٹ منیجر ڈاکٹر محسن کیانی، ڈاکٹر شعیب سلیم،ڈاکٹر زاہد قدوس بھٹہ،ڈاکٹر تابندہ اور پاکستان بھر سے لائیوسٹاک کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے پاکستان میں لائیو سٹاک سے وابستہ چھوٹے اوردرمیانے درجہ کے کسانوں کے لیے کاروباری مواقع اور ترقیاقی پروگرام کے فروغ کے لیے تین روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے اسے نہایت خوش آئند اقدام قرار دیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ میں اس ورکشاپ کے انعقاد پر لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ اور آسٹریلوی حکومت کی معاونت سے چلنے والے ڈیری بیف پراجیکٹ کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

پاکستان میں لائیو سٹاک سے وابستہ کسانوں میں چھوٹے کسانوں کا تناسب 85 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ کسان دودھ، گوشت اور انڈوں کی پیدوار میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی محنت اور معاونت کی بدولت پاکستان اپنی تقریبا 22 کروڑ آبادی کے لیے نہ صرف دودھ اور گوشت کی ضروریات میں خودکفیل ہے بلکہ لائیو سٹاک پراڈکٹس کو بین الاقوامی منڈیوں میں بھیج کر زرمبادلہ بھی کما رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کسان اپنے کاروبار میں نمایاں منافع حاصل کرکے معیار زندگی کو بہتر کرنے میں پیش رفت حاصل نہیں کر پا رہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں جن میں کاروباری مواقع کی کمی، مارکیٹ کے ساتھ روابط کانہ ہونا،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال،جدید فنی تر بیت اور معلومات کی فراہمی کی کمی شامل ہیں۔ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ بورڈ گزشتہ دو سالوں سے وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرامز کے ذریعے تقریبا 3 لاکھ چھوٹے کسانوں کو فنی اور مالی معاونت فراہم کر چکا ہے۔ اِن کسانوں کی معاونت سے گوشت کی پیدوار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ گھریلو مرغبانی پروگرام کے ذریعے دیہی سطح پر غذائی کمی کے مسائل کا تدارک ممکن ہو رہاہے۔ ان لائیو سٹاک ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کی کامیابی وزیر اعظم پاکستان کے وژن کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کے ذریعے وہ ملک میں کسانوں اور کمزور طبقات کی معاشی حالت میں بہتری لانا چاہتے ہیں۔ اِس وژن کے تحت ضرورت اس امر کی ہے کہ لائیوسٹاک سیکٹر میں ہونے والی تحقیق اور اس کے فوائد چھوٹے کسانوں تک باہم پہنچائے جائیں اور ان کسانوں کو مقامی وسائل کے ساتھ ساتھ تحقیق شدہ عملی کاروباری ماڈلز اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے تاکہ یہ کسان اپنے کارروبارکو مزید فروغ دے کر خود کفیل ہو سکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ لائیو سٹاک کے فروغ کے لیئے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ لائیو سٹاک بورڈ اور ملحقہ پبلک ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ ڈیری بیف پراجیکٹ اور دیگر پرائیوٹ اداروں کا باہمی اشتراک ایک مثبت پیش رفت ہے۔اس کے ساتھ جامعات اور بین الاقوامی ترقیاتی پروگرامز کے تعاون سے ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کسانوں کے لئے جدت اور ٹیکنالوجی کاحصول سود مندہوگا۔ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے کہا کہ اُمید کرتا ہوں آپ تمام اداروں کا باہمی تعاون چھوٹے کسانوں کے مسائل میں کمی اور معاشی حالت میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہو گا۔وزار ت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ اِس سلسلے میں آپ کی رہنمائی اور معاونت کا فریضہ جاری رکھیگی۔ جبکہ آپ اپنی سطح پر ان پروگرامز کی افادیت اور ترویج کے لئے کوشاں رہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے