جانوروں کے لئے لمپی سکن ویکسین کی خریداری‘ محتسب پنجاب نے مبینہ کرپشن پر ڈی جی لائیوسٹاک سے جواب طلب کر لیا

(روزنامہ 92 میں شائع شدہ نیوز)

لاہور( انور حسین سمرائ) محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب کی طرف سے صوبہ میں جانوروں کو لمپی سکن بیماری سے بچاﺅ کے لئے لگائی جانے والی ایک ارب 40 کروڑ کی لاگت سے نجی فرم سے خریدی گئی ویکسین کا مبینہ طور پر کم مدت میعاد (ایکسپائری) ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ روزنامہ 92 نیوز کی تحقیقات و دستاویزات کے مطابق محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب گائے، بچھڑے اور بیل کو اس بیماری سے بچانے کے لئے 60 لاکھ ویکسین خرید رہا ہے۔ اس ویکسین کی شیلف لائف دو سال ہونا لازم تھا لیکن نجی فرم کی طرف سے فراہم کی گئی ویکسین کی لائف چند ماہ ہے۔ محتسب پنجاب نے بھی ویکسین کی خریداری میں بے قاعدگیوں اور مبینہ کرپشن پر ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک سے جواب طلب کیا ہے محکمہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ فراہم کردہ ویکسین کی ایکسپائری دیکھنے کے بعد مجاز اتھارٹی کی طرف سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس ویکسین کو فوری طور پر فیلڈ فارمیشن کو سپلائی کیا جائے تاکہ یہ استعمال ہو جائے اور ایکسپائری کا ایشو نہ بن سکے۔

ڈائریکٹر جنرل ایکسٹینشن نے 28 دسمبر کو ڈائریکٹرز لائیوسٹاک لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، ساہیوال، سرگودھا، راولپنڈی اور فیصل آباد کو خط لکھا کہ تمام ویٹرنری اسسٹنٹس کو روزانہ کی بنیاد پر دو وائل (25 فی خوراک) فراہم کریں جو جانوروں کو لگائی جائے۔ 6 جنوری کو ڈی جی نے مزید ایک خط لکھا کہ 7 ڈویژن میں محکمہ کے ڈائریکٹرز خریدی گئی ویکسین کی خوراکیں ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے 9 جنوری تک وصول کر لیں تاکہ ویکسین لگانے کی مہم 15 جنوری سے شروع کی جا سکے۔ فراہم کردہ 5 لاکھ ویکسین کی وہ خوراکیں جن کی ایکسپائری تین سے چار ماہ ہے اور یہ مہم کے پہلے فیز میں لگا دی جائے گی۔ محکمہ کے افسروں کی ملی بھگت سے کم میعاد والی ویکسین فراہم کی گئی۔ ذیل میں مبینہ طور پر کرپشن ہوئی، سارے مبینہ سکینڈل میں ایک سیاسی شخصیت کی آشیرباد حاصل ہے۔ ڈی جی ایکسٹینشن پنجاب ڈاکٹر اقبال شاہد نے رابطہ کرنے پر کوئی جواب نہ دیا۔