پاکستان میں فی کس 8 کلو گوشت سالانہ میسر، اس میں 40فیصد بڑا، 33فیصد چھوٹا اور 4فیصد مرغی کا گوشت شامل ہے،محکمہ لائیوسٹاک

فیصل آباد (لائیوسٹاک پاکستان) ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ فیصل ۱ٓبادڈاکٹر حیدر علی خان نے کہا ہے کہ اگرچہ حکومت لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ سیکٹر کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے پھر بھی عام آدمی کوفی کس سالانہ 8 کلوگوشت دستیاب ہے جو دوسرے ممالک کے افراد کی نسبت بہت کم ہے ،اس ضمن میں مزید بہتر انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فی کس آمدنی کے لحاظ سے گوشت کی وافر مقدار میں ارزاں نرخوں پر فراہمی یقینی بنائی جا سکے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے بتا یا کہ پاکستان میں اس وقت فی کس سالانہ کے حساب سے عام افراد کو 8کلو گرام گوشت میسر ہے اس میں 40فیصد بڑا، 33فیصد چھوٹا اور 4فیصد مرغی کا گوشت شامل ہے، آسٹریلوی سالانہ 140کلو، امریکی 90،برطانوی 85اور جرمن 72کلو گوشت فی کس استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتا یاکہ پاکستان میں عام طور پر بڑا گوشت ان جانوروں سے حاصل کیا جاتا ہے جو ناکارہ ہونے کے علاوہ کافی بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں اس طرح ان کے گوشت میں غذ ائیت بھی کم ہوتی ہے۔ ڈاکٹر حیدر علی نے کہا کہ پاکستان کی آب و ہوا میں روزانہ فی کس لحمیات کی فراہمی تقریباً 50گرام ہو نی چاہیے جس میں 25گرام کے قریب حیوانی لحمیات کا ہونا بھی ضروری ہے، ہماری قوم لحمیات کی مقررہ مقدار سے محروم ہے جبکہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث لحمیاتی قلت کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عمدہ اوصاف کے حامل گوشت کی بھر پور پیداوار حاصل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے