نجی ذبح خانے قائم مضر صحت گوشت فروخت

گوجرانوالہ (لائیوسٹاک پاکستان) ضلعی انتظامیہ ، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور میونسپل کارپوریشن کی عدم توجہی کے باعث ہوٹلوں، شادی ہالوں اور ریسٹورنٹس میں مضر صحت گوشت استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، سلاٹر ہاؤس کے بجائے بکرے، چھترے، بکری اور ۔۔۔ بھیڑیں نجی گوداموں اور گلیوں میں ذبح کی جانے لگیں، سرکاری سلاٹر ہاؤس میں سرکاری فیس کی ادائیگی کے بغیر جانور ذبح کئے جارہے ہیں جبکہ بیشتر قصابوں نے پرائیویٹ سلاٹر ہاؤس قائم کر رکھے ہیں، گوشت صحت مند ہونے کی مہر بھی نہیں لگوائی جاتی۔

ذرائع کے مطابق اینیملز سلاٹر ایکٹ کے تحت قصابوں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ بکرے، چھترے و دیگر جانور وں کو صرف سرکای سلاٹر ہاؤس میں ذبح کریں جہاں ویٹرنری ڈاکٹر جانوروں کی صحت چیک کرتا ہے ، لاغر ، بیمار جانور کو ذبح ہونے سے روک دیا جاتا ہے ۔ جانور کی کھال اتارنے پر ویٹرنری ڈاکٹر گوشت پر مہر لگا کر صحت مند ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق نجی سلاٹر ہاؤسز میں گوشت نہ صرف بھیڑ ، بکریوں کا استعمال ہوتا ہے بلکہ قریب المرگ جانور بھی ذبح کئے جاتے ہیں، تکہ کباب کی دکانوں پر نوزائیدہ و کم عمر جانوروں کو ذبح کر کے چھوٹا گوشت ظاہر کر کے تکہ کباب بنا کر فروخت کئے جارہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ، میونسپل کارپوریشن اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کوئی توجہ نہیں دے رہی۔