بونسائی: شجرکاری کا ایک انوکھا طریقہ

تحریر : مبین احمد اعظمی

بونسائی کا مطلب ہے ”بونے پودے‘‘ یا پودوں کو چھوٹا بنانا۔ یعنی شاخوں اور جڑوں کی مسلسل تراش خراش کرکے اس قدر چھوٹا بنانا کہ وہ دیکھنے میں ایک مکمل درخت نظر آئے لیکن سائز میں بالکل چھوٹا ہو، بونسائی کہلاتا ہے۔
اگر ہم بونسائی کی تاریخ کی بات کریں تو اس کی ابتداء چین میں ایک ہزار سال قبل ہوئی۔ چینی زبان میں اسے ”پنسائی‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور جب یہ فن جاپان میں پہنچا تو جاپانی زبان میں ”بونسائی‘‘ ہوگیا۔ چینی لوگ بونسائی کے ذریعہ پودوں کو الگ الگ جانوروں اور پرندوں کی شکل دیا کرتے تھے۔ اس کے پیچھے ان کے کچھ رسم و رواج اور دیومالائی کہانیاں وابستہ تھیں۔ جاپان میں اس کا داخلہ زین بدھ ازم کے ذریعہ 12ویں صدی میں ہوا، لیکن جلد ہی یہ بدھ بھکشوئوں کے پاس سے نکل کر اعلیٰ ذات کی عزت و وقار کی علامت بن گیا۔ 19ویں صدی کے وسط تک جاپان میں یہ فن اپنے عروج پر تھا اور اس دوران وہاں پہنچنے والے بیرونی سیاحوں کے ذریعے بونسائی‘ جاپان سے باہر کی دنیا میں متعارف ہوا۔
بونسائی کے ترقی یافتہ دور کا تعلق جاپان سے ہے۔ جس میں پودوں کو چھوٹے سائز میں ہی پرکشش شکل دی جاتی ہے۔ اس ماڈرن دور کی بات کریں تو اب بونسائی پودوں کو سجاوٹ اور تفریح طبع کے مقصد کیلیے بھی استعمال کیا جانے لگا ہے۔ ٹھیک سے دیکھ بھال کی جائے تو بونسائی پودے آرام سے سو سوا سو سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔نئے قلمی پودے کو بونسائی بنانے کے لیے کوکوپٹ، ریت اور گوبر کی کھاد ملاکر خاص بھربھری بنائی گئی مٹی اور اتھلے برتن کی ضرورت ہوتی ہے۔
بونسائی درخت کا سائز: بونسائی پودے کی ہیئت اور سائز پر مت جائیے، ان کو پودے سے پیڑ بننے میں عام درختوں سے تو کم وقت لگتا ہے لیکن پھر بھی برسوں لگ جاتے ہیں۔ ایک عام درخت بڑا ہونے کے بعد 5میٹر یا اس سے بھی اونچا ہوتا ہے۔ وہیں سب سے بڑے ہیئت کے بونسائی درخت کی اونچائی زیادہ سے زیادہ ایک میٹر رکھی جاسکتی ہے۔ بہت چھوٹا بونسائی 15سینٹی میٹر، اس سے بڑا 15 سے 30 سینٹی میٹر، درمیانی بونسائی 30 سے 60 سینٹی میٹر اور بڑا بونسائی 60سینٹی میٹر سے اونچا ہوتا ہے۔ آپ ایسا پودا منتخب کریں جس کی ہیئت اچھی ہو اور جو کٹائی اور چھانٹی کے بعدآسانی سے آپ کی خواہش کے مطابق خوبصورت لگے۔ خیال رہے کہ اگرآپ بیج سے پودے اگانا چاہتے ہیں تو آپ پودے کی نمو اور بڑھوتری کے ہر مرحلے میں جس طرح چاہیں کنٹرول کرسکتے ہیں۔
بونسائی کیسے بنائیں : بونسائی پودے آپ دو طریقوں سے بنا سکتے ہیں۔ (۱) چھوٹے قلمی پودے سے (۲) بیج کے ذریعہ سے۔ لیکن بیج سے بونسائی بننے میں کافی وقت لگ سکتا ہے، اس لیے آپ چھوٹے قلمی پودے سے ہی بونسائی بنانا شروع کریں۔سب سے پہلے احتیاط سے پودے کو مٹی سے الگ کریں اور اس کی جڑوں پر لگی مٹی کو برش سے ہٹائیں۔ اب اس کے تنوں اور جڑوں کی تھوڑی تھوڑی کٹائی کریں تاکہ وہ پودا بونسائی گملے میں فٹ بیٹھ سکے۔ اب گملے میں مٹی ڈالیں اور دو تین انچ موٹی مٹی کی پرت بناکر پودے کو رکھیں۔ پھر جڑوں کی چاروں طرف مٹی پھیلاکر دھیرے دھیرے دبائیں۔ اس کے بعد مٹی کے اوپر بجری اورکنکریاں پھیلائیں تاکہ گملا صاف ستھرا لگے۔ کچھ دنوں بعد جب پودا گملے میں اچھی طرح جم جائے تو اس کی ٹہنیوں پر دھاتوں کی تار لپیٹ کر اسے عام درخت جیسی شکل دیں۔ ویسے ٹہنیوں کو نیچے کی طرف جھکانے کے لیے کچھ لوگ وزن بھی باندھتے ہیں۔درخت کو خوبصورت اور من پسند شکل دینے کے لیے اس کی ٹہنیوں اور شاخوں کو بڑھتے ہی لگاتار کاٹتے جانا ہوگا۔ جتنی اونچائی کا بونسائی آپ چاہتے ہیں، اتنی اونچائی حاصل کر لینے کے بعد آنے والی نئی کونپلوں کو کاٹتے جا ئیں تاکہ وہ مزید اونچا نہ ہو، بلکہ اسی اونچائی پر پھیلتا جائے اور خوبصورت نظر آئے۔ اس طرح درخت کی لمبائی میں رکاوٹ ہوتی جاتی ہے لیکن چوڑائی میں وہ پھیلتا جاتا ہے۔
جڑیں اور ری پاٹنگ (Repoting):بونسائی کے عمل میں پودوں کو وقفے وقفے سے نئے برتنوں میں منتقل کرنا ہوتا ہے جسے ری پاٹنگ (Repoting) کہتے ہیں۔ یہ ری پاٹنگ الگ الگ پودوں کے لیے چھ مہینے سے لے کر ایک سال، دو سال، تین سال یا چار سال تک میں کی جاتی ہے۔ ری پاٹنگ کے عمل میں پودے کی جڑوں کی کٹائی بھی کی جاتی ہے اور اسے کسی بڑے برتن میں منتقل کیا جاتا ہے۔ جب پودا بڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کی جڑیں بھی بڑھتی ہیں۔ ایسے میں ان کے برتن بدلنے کے دوران جڑوں کی بھی چھانٹی کرتے جاتے ہیں۔
بونسائی کے فائدے
٭… بونسائی ایک اچھا روزگار بھی ہے۔ اس کی دیکھ بھال فارغ افراد کے ذریعہ اچھی طرح سے کی جا سکتی ہے۔
٭… جگہ کی کمی کی وجہ سے جو پودے گھر میں لگانا ممکن نہیں تھے، وہ بھی اب ہم اپنے گھروں میں لگا سکتے ہیں۔
٭… بونسائی بے حد خوبصورت اور دلکش ہوتاہے۔ یہ گھر کی خوبصورتی بڑھاتا ہے۔
٭… دیگر فصلوں، پھلوں اور سبزیوں کی طرح اسے وقت مقررہ پر کاٹنا اور بیچنا نہیں پڑتا۔
٭… پھل، پھول اور سبزیوں کے خراب ہو جانے کی وجہ سے کئی بار کسانوں کو صحیح قیمت نہیں مل پاتی اور خراب ہوجانے کے ڈر سے کسان انہیں کم قیمت پر بیچ دیا کرتے ہیں، لیکن بونسائی کی صحیح دیکھ بھال اس کی قیمت کو بڑھاتی ہے۔
٭… باغبانی ذہنی تنائو کو دور رکھنے میں مدد کرتی ہے، لیکن شہروں میں باغبانی ممکن نہیں ہو پاتی، ایسے میں بونسائی ایک اچھا ذریعہ ہے۔
٭… جن کسانوں کے پاس کھیتی کے کم رقبے ہیں، ان لوگوں کے لیے بونسائی ایک اچھا ذریعہ آمدنی ہے۔
٭… اگر گھر میں بونسائی لگایا جائے، تو گھر کے بچے بھی درختوں کی اہمیت کو سمجھیں گے اور ان کے رکھ رکھائو کو بے حد آسانی سے سیکھ جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے