2 ماہ بعد ملک میں مرغی کا گوشت نہیں ملے گا، دودھ، خوردنی تیل مہنگا ہوگا

سویابین اور کنولہ کے جہازوں کی کلیئرنس نہ ہونے سے دودھ کی قیمت میں 2 سے 3 گنا اضافہ ہو جائے گا، خوردنی تیل کی قیمت بھی دگنی ہو جائے گی: سینئر اینکر کا انکشاف

کراچی (لائیوسٹاک پاکستان) دنیا نیوز سے وابستہ سینئر اینکر جنید سلیم کے مطابق 2 ماہ بعد ملک میں مرغی کا گوشت نہیں ملے گا،دودھ کی قیمت میں 2 سے 3 گنا اضافہ ہو جائے گا، خوردنی تیل کی قیمت بھی دگنی ہو جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق دنیا نیوز سے وابستہ سینئر اینکر جنید سلیم کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی کی بندرگاہ پر 3 سے 7 لاکھ ٹن سویا بین جو پہلے سے ہی خریدا جا چکا ہے، وہ پھنسا ہوا ہے، اسے کلیئر نہیں کیا جا رہا۔

 بتایا گیاہے کہ یہ سویا بین، کوکنگ آئل کی تیاری اور مرغی کی خوراک میں استعمال ہوتا ہے۔ اب اس سویا بین کی کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سےاگلے ڈیڑھ سے 2 ماہ میں ناصرف مرغی کا گوشت مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہو گا، بلکہ دودھ اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

دوسری جانب اس حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق پورٹ قاسم پر کروڑوں روپے مالیت کے سویابین اور کنولہ کے جہازوں کی کلیئرنس نہ ہونے سے سرمایہ کار پریشان ہیں اور انہوں متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پورٹ قاسم پر کروڑوں روپے مالیت کے سویا بین اور کنولہ میل کے چار جہاز کلیئرنس کے منتظر ہیں اور کلیئرنس نہ ملنے پر سرمایہ کار پریشان ہیں جس کے بعد انہوں نے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا ہے۔آل پاکستان سولونٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزارت فوڈ سکیورٹی کو خط لکھا گیا ہے جس میں حکومت سے سویابین، کوکنگ آئل سیڈز کی درآمد میں حائل کسٹمز رکاوٹیں دور کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے وزارت فوڈ سکیورٹی کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پورٹ قاسم پر آئے کنولہ اور سویا بین کے جہازوں کو کلیئرنس نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے سرمایہ کار پریشان ہیں۔ پورٹ پر کروڑوں روپے مالیت کے سویا بین اور کنولہ میل کے چار جہاز کلیئرنس کے لیے کھڑے ہیں۔خط میں وزارت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کسٹم انٹیلی جنس نے نان جینی ٹیکل سیڈز کی درآمد کو جواز بنا کر کلیئرنس روک دی ہے۔

کلیئرنس نہ ہونے سے فیڈ ملز اور خوردنی تیل کمپنیوں کو خام مال کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ کنولہ اور سویا بین کی کلیئرنس نہ ہونے سے پورٹ پر موجود درآمدی سیڈز کی خرابی کا بھی خدشہ ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پورٹ قاسم آٹر چینل میں ساڑھے 4 کروڑ ڈالر کے درآمدی کنسائنمنٹ پانی میں کھڑی ہیں۔ بیج درآمد پر پالیسی کو واضح نہیں کیا گیا تو 6 کروڑ میٹرک ٹن بیج کی درآمد متاثر ہوسکتی ہے۔

دو جہازوں کی کلیئرنس متاثر ہونے سے چکن فیڈ اور خوردنی تیل کی قیمت دگنی ہوگئی ہے۔ سویا بین کا استعمال جانوروں کی فیڈ میں ہوتا ہے چکن کی قیمت 50 روپے کلو تک بڑھ گئی ہے۔خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کنولہ کی سپلائی متاثر ہوئی تو خوردنی تیل کی قیمت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا ہے کہ عالمی سطح پر بیجوں کی کرشنگ پر پابندی نہیں،کسٹم نے غلط معلومات پر کنسائمنٹ روکے، اس حوالے سے حکومت پالیسی واضح کرے اور سویا بین وکنولہ کی کرشنگ پر نوٹیفکیشن جاری کرے۔