ملک میں دودھ کی پیداوار کا صرف 7 سے 8 فیصد پراسیس ہورہا ہے

لائیو سٹاک کے درست ڈیٹا کی دستیابی سے موثر حکمت عملی وضع کرنے میں مدد ملے گی،وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی و ریسرچ سید فخر امام

لاہور(لائیوسٹاک پاکستان) وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی و ریسرچ سید فخر امام نے کہا  ہے کہ ملک میں دودھ کی پیداوار کا صرف سات سے آٹھ فیصد پراسیس ہورہا ہے جس میں اضافے کی ضرورت ہے، ملک میں لائیو سٹاک کے درست ڈیٹا کی دستیابی اشد ضروری ہے جس سے اس سیکٹر کی ترقی کے لیے موثر حکمت عملی وضع کرنے میں مدد ملے گی۔

وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ”دودھ کی پیداوار کو کیسے بڑھایا جائے” کے موضوع پر سیمینار اور ڈیری/الائیڈ پروڈکٹ شو سے خطاب کر رہے تھے،اس موقع پرپنجاب کے وزیر برائے پبلک پراسیکیوشن چوہدری ظہیر الدین خان، سابق وزیر لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ممتاز خان منہیس، لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر میاں رحمان عزیز چن، نائب صدر حارث عتیق، سیکرٹری لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ نوید حیدر شیرازی اور دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ درست شماریاتی اعداد و شمار کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دودھ کی پیداوار کا صرف سات سے آٹھ فیصد پراسیس ہورہا ہے جس میں اضافے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانوروں کی افزائش نسل کے حوالے سے پاکستان ابھی بہت پیچھے ہے، اس جانب بھی توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے ڈیری سیکٹر میں پیداوار بڑھانے اور ویلیوایڈیشن کے لیے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اینیمل سائنس کے شعبہ کی طرف لایا جائے تاکہ لائیوسٹاک سیکٹر کوجدید خطوط پر استوار کیا جاسکے۔ صوبائی وزیر چوہدری ظہیر الدین خان نے کہا کہ دودھ اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی پروسیسنگ سے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلال گوشت کا شعبہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑا حصہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے کے لیے ڈیری پروسیسنگ مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس صفر ہونا چاہیے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق 2020-21 میں دودھ کی سالانہ خام پیداوار 63.7 ملین ٹن تھی جو اس سے پچھلے سال 61.7 ملین ٹن تھی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2013 میں ڈیری سیکٹر کی برآمدات کا حجم 108ملین ڈالر سے زائد تھا جو 2020 میں کم ہوتے ہوئے صرف 42.7 ملین ڈالررہ گیا۔ انہوں نے ڈیری کی پیداوار بڑھانے کے لیے بہترین نسل کے مویشیوںکی افزائش پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے کے لیے حکومت ڈیری پروسیسنگ مشینری/آلات کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس ختم کردے، زیادہ پیداوار دینے والے مویشیو ںکی درآمد پر انسینٹودویے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اور سویڈن جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والی ملٹی نیشنل ڈیری کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ سازی کی جائے جس سے ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی مدد ملے گی۔ لاہور چیمبر کے صدر نے حکومت پر زور دیا کہ لائیوسٹاک، ڈیری سیکٹر کی طرف خصوصی توجہ دے تاکہ یہ ملک کی معاشی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرسکیں لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر میاں رحمان عزیز چن نے کہا کہ پاکستان کی ڈیری انڈسٹری اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیری مصنوعات برآمد کرنے والے بڑے ممالک عالمی برآمدات میں اپنا حصہ مسلسل بڑھا رہے ہیں،ڈیری سیکٹر کی طرف توجہ دیکر پاکستان عالمی سطح پرپیدا ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر حارث عتیق نے کہا کہ حکومت لائیوسٹاک سیکٹر سے وابستہ افراد کی تربیت اور انہیں آگہی پیدا کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے، مزید برآں اس سیکٹر کو خصوصی انسینٹوز دئیے جائیں۔ اس موقع پر ڈیری و متعلقہ مصنوعات کا شو بھی منعقد کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے