شتر مرغ فارمنگ کے ذریعے لائیوسٹاک و پولٹری فارمرز شا ندار منافع حاصل کر سکتے ہیں

فیصل آباد (اے پی پی)شتر مرغ فارمنگ کے ذریعے لائیو سٹاک و پولٹری فارمرز شا ندار منافع حاصل کر سکتے ہیں اور چونکہ دنیا بھر میں اس کی مانگ اور قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے ماہرین لائیو سٹاک،پولٹری فارمنگ و ڈیری ڈویلپمنٹ نے اے پی پی کوبتایاکہ مادہ شتر مرغ 40 سال تک انڈے دیتی ہے اور شتر مرغ کی اس صلاحیت کی بدولت شترمرغ فارمنگ ترقی پذیر یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ کم خرچ اور منافع بخش کاروبار مانااورا پنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شتر مرغ فارم کی منصوبہ بندی اور انتظام کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ شتر مرغ بہت تیزی سے بڑے ہوتے ہیں اسلئے شتر مرغ کی خرید شتر مرغ کی عمر کے کسی بھی حصے میں کی جاسکتی ہے اور یہ فیصلہ خریدار کی مالی حالت اور مویشیوں کے ساتھ اس کے تجربے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شتر مرغ فارمنگ سب سے زیادہ منافع بخش زرعی کاروبار سمجھا جاتا ہے حالانکہ زیادہ تر لوگ شتر مرغ سے حاصل ہونے والے گوشت اور دیگر اشیا کے بارے میں نہیں جانتے کیونکہ اس کے گوشت کے علاوہ شتر مرغ سے بیش قیمتی پر،تیل،نفیس،چمڑا اور دیگر اشیا حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ 3سے 6ماہ تک کے چوزے شتر مرغ کی خریداری زیادہ عام ہے کیونکہ اس عمر میں یہ آزادی او ر ہر طرح کے موسم کو برداشت کرنے کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں۔

اور عمر کے اس حصے میں اسے سنبھالنا بہت آسان ہوتا ہے کیونکہ یہ نئے لوگوں کا جلد عادی بھی ہوجاتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ بیرون ملک سے درآمد شدہ تیار بریڈرز کیلئے فی پرندہ 2 سے 3 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے جبکہ مقامی طور پر جوان بریڈرز ڈیڑھ سے2لاکھ روپے فی پرندہ دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایاکہ بریڈرز سے فارم کی ابتدا کر کے سرمایہ کار نہ صرف جلد انڈوں کی پیداوار حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اس طرح کاروبار میں نقصان کا خطرہ بھی نہ ہونے کے برابررہ جاتا ہے کیونکہ چھوٹے چوزے کو 2 سال تک بریڈنگ کیلئے تیار کرنے میں ناتجربہ کاری اور کم علمی کے باعث پرندوں میں شرح اموات زیادہ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ایسے لوگ جو کم سرمایہ سے کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں وہ چھوٹے چکس کو بریڈنگ کیلئے تیار کر کے اس کاروبار میں داخل ہوسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے