دودھ اتارنے کیلئے استعمال ہونے والے انجیکشن آکسی ٹوسن کا کردار، استعمال اور اس کے نقصانات

ریسرچ کے مطابق اس سائنسی ایجاد کے بعد لڑکیوں کی بالغ ہونے کی عمر 16 سال سے کم ہو کر 10 سال تک پہنچ چکی ہے،جانوروں میں ہارمون کے بیلنس کو خراب کرتا ہے

1۔ آکسی ٹوسن Oxytocin کا کردار

آکسی ٹوسن Oxytocin یونانی زبان کا وہ لفظ جس کے معنی "سہولت، آرام اور تیزی سے پیدائش کے” ہیں۔ آکسی ٹوسن بچے کی ڈلیوری کے وقت ہونے والی دردوں یا لیبر Pain کے دوران دماغ سے قدرتی طور پر خارج ہونے والا ہارمون ہے جو رحم کے پھیلاﺅ اور سکڑاﺅ کے لیے تحریک پیدا کرتا ہے اس کے علاوہ جب دودھ پینے والا بچہ تھنوں پر منہ مارتا ہے تو اس وقت بھی آکسی ٹوسن خارج ہو کر میمری گلینڈ کے Secretory ٹشوز میں تحریک پیدا کر کے دودھ کو تھنوں میں اتار دیتا ہے۔ آکسی ٹوسن میں 8 امائینوایسڈز کی ایک ترتیب کے ساتھ موجودگی اسے پروٹین کی طرح کا ہارمون بناتی ہے جو خون کے زریعے خارج ہونے والے مقام سے اپنی ضرورت کی جگہ پہنچتا ہے۔

اس ہارمون کا بنیادی کام سوڈیم آئینز کو مسلز کے اندر سرایت کرا کر ڈلیوری کے وقت رحم کے عضلات کے پھیلاﺅ اور سکڑاﺅ کے عمل کو کنٹرول کر کہ بچے کو برتھ کنال میں دھکیل کر ڈلیوری کے عمل کو تیزی اور سہولت سے مکمل کرانا ہے۔ اس کے علاوہ اس ہارمون کا مقصد دودھ پیدا کرنے والے سیلز Alveoli کے اردگرد پائے جانے والے رکے ہوئے مسلز اور سیلز میں انتشار اور کھنچاﺅ وغیرہ پیدا کر کے دودھ کو تھنوں میں اتارنا ہے۔

2۔ آکسی ٹوسن Oxytocin کا استعمال

بدقسمتی سے یہ انجکشن پاکستان کے ہر گاﺅں دیہات میں بغیر کسی پریشانی کے ہرچھوٹے بڑے جنرل سٹور یا کریانہ کی دوکانوں پر بغیر کسی ڈاکٹر کے نسخے کے باآسانی دستیاب ہے۔ لوگوں میں اس انجکشن کی سمجھ کااندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن کو اسکا نام نہیں آتا، وہ دوکاندار سے دودھ اتارنے والا، پسمانے والا یا سنگھانے والا انجکشن کہ کر حاصل کرتے ہیں، اسکی بنیادی وجہ عام لوگوں کو وقتی فائدہ کا پتہ ہونا اور بعد کے نقصانات سے لاعلمی، زیادہ دودھ کا لالچ، دودھ نکالنے کے وقت میں کمی اور آسانی، کٹڑوں اور بچھڑوں کا دودھ بچانا وغیرہ اہم ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے زیادہ تر عوام اس انجکشن کے جانوروں کے ساتھ انسانی صحت کے نقصانات سے بھی واقف نہیں ہیں۔

3۔ آکسی ٹوسن Oxytocin کے جانوروں پر نقصانات

سب سے پہلے اس انجکشن کا جانوروں میں صبح، شام کا استعمال دودھ اتارنے کے عمل کو تکلیف دہ بنا دیتا ہے کیونکہ اسکے استعمال سے یوٹرس سکڑتی اور پھیلتی ہے جو بزات خود ایک تکلیف دہ عمل ہے اس وجہ سے یہ ایک غیر اخلاقی طریقہ ہے۔اس انجکشن کے صبح شام بے دریغ استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والی صبح شام کی یوٹرس Contraction جانور میں بلاآخر بانجھ پن پیدا کر دیتی ہے جس سےنارمل جانوروں سے لیکر اچھی نسل کی بھینس یا گائے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو کر گوشت کے بھاﺅ بیچ دی جاتی ہے، جانور کی نارمل زندگی بھی اس ہارمون کے بے دریغ استعمال سے کم ہوجاتی ہے، جانورکا زیادہ دفعہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہونا بھی اسی ہارمون کا مرہون منت ہے کیونکہ آکسی ٹوسن کا اندھادھند استعمال جانوروں میں ہارمون کے بیلنس کو خراب کر دیتا ہے، یہ انجکشن ساڑو Mastitis کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ ہارمون میں بگاڑ دودھ کی اجزائے ترکیبی کو قائم رکھنے والے سیلز میں بھی خرابی پیدا کر دیتا ہے جسکا نتیجہ ساڑو کی صورت میں سامنے آتا ہے، اسکے علاوہ جانور کے حوانے کا بیلنس خراب ہونا بھی اسی انجکشن کی زیادتی کا ہی شاخسانہ ہے۔

4۔ آکسی ٹوسن Oxytocin کے انسانی صحت پر اثرات

دودھ کے ساتھ انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد یہ ہارمون برے طریقے سے انسانی صحت پر اثر ڈالتا ہے۔ آکسی ٹوسن سے نکالا گیا یہ دودھ انسانی جسم میں موجود ہارمونز کے بیلنس کو بھی خراب کر دیتا ہے، اس ڈسٹربینس کی سب سے بڑی مثال بچوں اور بچیوں کا بہت جلدی بلوغت کی عمر کو پہنچ جانا ہے، ریسرچ کے مطابق اس سائنسی ایجاد کے بعد لڑکیوں کی بالغ ہونے کی عمر 16 سال سے کم ہو کر 10 سال تک پہنچ چکی ہے، چھوٹی عمر کے لڑکوں میں Gynaecomastia یعنی نوعمر لڑکوں کے سینوں پر عورتوں کی طرح کے ابھار پیدا ہونا، اس کے علاوہ چھوٹے بچوں کی کمزور بینائی، آنکھوں کی کمزوری، چھوٹی سی عمر میں چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں پر بالوں کا اگاﺅ، جسم میں طاقت کا محسوس نا ہونا، ہر وقت کمزوری محسوس ہونا بھی آکسی ٹوسن کے اثرات ہیں۔ حاملہ خواتین کے اس دودھ کے استعمال سے پیدا ہونے والے بچے میں پیدائشی نقص، قوت مدافعت کی شدید کمی اور ڈلیوری کے وقت خون کا زیادہ اخراج بھی اسی انجکشن کے دودھ کا شاخسانہ ہے۔ یہ تمام نقصانات انسانوں اور جانوروں کی صحت کی خرابی کا چھوٹا سا نمونہ ہیں مگر اصل میں یہ نقصانات اپنی Slow Poisning اور ہارمون ڈسٹربینس کی وجہ سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں۔

”اس پوسٹ کی وساطت سے آپ تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ اچھی نسل کے جانوروں کو بچانے اور پاکستان میں جانوروں کی پیداوار کو بڑھانے کے ساتھ انسانی صحت کے نقصانات کو بھی مدنظر رکھ کر اس عمل میں اپنا کردار ادا کریں“۔