کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ پاکستانی ڈیری۔۔۔ اور۔۔۔ لوکل بریڈز

تحریر ! ڈاکٹر عماد شجاعت دامی

دنیا میں وقوع پزیر ہونے والی نت نئی ایجاد نے جہاں انسانی طرزِ زندگی کو فروزاں کیا ہے وہیں انسان کے فطری رویوں پر بھی گہرا اثر چھوڑا ہے۔
دنیا جہاں دیگر معاملات میں ترقی کے زینے پاﺅں تلے روندتی آگے بڑھتی گئی وہیں ڈیری سیکٹر بھی پیہم اوج کی طرف گامزن نظر آیا۔گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ A2A2 اور A1A1 دودھ کے معاملات بھی زیرِ بحث آنے لگے۔ A1A1 دودھ نے یقینی طور پر انسانی صحت پر برے اثرات مرتب کئے تبھی تو اس کی classification کی ضرورت پیش آئی۔
بحث سمندر پار چھڑی اور اس جدت پسندی کی چڑیل نے پاکستان کے گلشنوں میں بھی بسیرا کر لیا۔ پنجاب میں گو کہ A1A1 bulls کا سیمن سیل کرنے پر پابندی ہے لیکن پھر بھی کچھ ”لمبے ہاتھوں “ والے لوگ پنجاب میں A1A1 سیمنز سیل کر رہے ہیں۔
مختلف ممالک کے کمرشل جانور جو کہ A1A1 خاصیت کے حامل ہیں پاکستان میں کافی حد تک سیل ہو چکے اور ان کا دودھ بھی مارکیٹ میں سیل ہو رہا ہے۔
آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ A2A2 دودھ آج بھی آسٹریلیا جیسے ملکوں میں A1A1 کی نسبت مہنگا فروخت ہو رہا ہے؟

پاکستان میں کمزور اور ”غریب پرور“ حکمرانوں نے کبھی بھی پاکستان کے لائیوسٹاک سیکٹر کی بہتری کے لیے اقدامات کو اپنی ترجیحات میں نہیں رکھا۔ پاکستانی نظام میں موجود اسی خلاءکی بنیاد پر کچھ میٹرک پاس سائینسدان اور مفاد پرست لوگ پاکستان کی لوکل بریڈز بارے مایوسی پھیلانے کی ناکام سازشوں کا حصہ بن رہے ہیں۔
ایک وقت تھا کہ پولٹری سیکٹر نے پاکستان میں موجود تمام پولٹری بریڈز کو سمیٹ کر رکھ دیا اور صرف اور صرف ”برائلر“ فارمنگ اپنے عروج کی طرف محوِ پرواز تھی۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ”دیسی خوراک“ پر پلے جانور کی غذائیت کا کوئی متبادل نہیں۔ اسی طرح آج کارپوریٹ اور کمرشل سیکٹر ڈیری سے منسلک چھوٹے فارمرز کی حوصلہ شکنی کو اپنا شیوہ بناءبیٹھا ہے۔ اور ہولسٹن جانوروں کی پروموشن کے لیے ”تن من دھن“ کی بازی لگائی ہوئی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے انگریز ممالک کا کچرا پاکستان کی مارکیٹ میں سونے کے بھاﺅ بیچنا ہوتا ہے۔ کوئی سیمن بیچنے والا اور کوئی منرل بیچنے والا۔ کسی کا بائی پاس فیٹ کا بزنس اور کسی کا جانور بیچنے کا۔ سب لوگ اس سسٹم کے بینیفشری ہیں اور ایک اکٹھ کے ساتھ لابنگ کر رہے اور آگے بڑھ رہے ہیں۔

فارمر کو کمٹمنٹ کے مطابق نہ تو جانور کا وزن ملتا ہے نہ ہی پریگنینسی۔ اور فارمر بھی چاپلوسوں کے نرغے میں کسی قسم کی قانونی کاروائی سے گریزاں نظر آتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فارمر جس نے اپنی برسوں کی کمائی اس بزنس میں لگا دی وہ پریشان حال ہے۔ اور اس کے خیر خواہ بھی اس کے پرسانِ حال نہیں۔ آج کونسا ڈیری فارمر پاکستان میں خوشحال ہے؟
مہنگائی نے ڈیری سیکٹر کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ زمینوں کے ٹھیکے پھر سے بڑھنے جا رہے ہیں۔ کھاد اور ڈیزل کی قیمتیں سا?یلیج کی پیداواری قیمتوں کو مزید بڑھاوا دیں گی۔ وہیں گھات لگائے بیٹھی مارکیٹنگ کمپنیاں بھی اپنے مارجن بڑھا رہی ہیں۔
ان تمام عوامل کے پیشِ نظر بجلی کے بڑھتے نرخ بھی فارمر کو مزید باریک پیسنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان میں امپورٹڈ جانور پاکستان کے خزانے پر کاری ضرب ثابت ہو رہا ہے۔ اور اس کا فائدہ چند ایک کمپنیوں تک محدود ہے۔
امپورٹڈ جانور کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے امپورٹڈ منرل۔۔۔ وہ بھی پاکستانی سرمایہ بیرونِ ملک جائے گا۔
پھر بائی پاس فیٹ سے لیکر سیمنز تک ہر چیز امپورٹ ہو گی۔
امپورٹڈ جانور شاورز سے لیکر پنکھوں تک پاکستانی معیشت کا دشمن ہے۔ اور دودھ کی ایوریج گرمیوں میں 20 لیٹرز سے اوپر لو تو مسائل۔ سردیوں میں 27 لیٹرز سے اوپر لو تو بریڈنگ کا کوئی حال نہیں۔
تھوڑی کوشش اور محنت سے ممکن ہے کہ ہم اپنی بریڈز کو اس لیول تک لے آئیں کہ دیگر ممالک سے امپورٹ ہو کر آنے والے جانوروں سے بہتر پرفارم کر سکیں۔
کیونکہ کچھ بھی ناممکن نہیں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے