گلیشئر پگھلنے سے پاکستان میں 70 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ

حکام وزارت موسمیاتی تبدیلی نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں گلگت بلتستان (جی بی) اور خیبرپختوان خوا 70 لاکھ افراد رسک پر ہیں، 2017 تک 3 ہزار سے زائد گلیشئر لیک بن چکے ہیں، اور شسپر تین سال سے پگھل رہا ہے۔ 

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس سینیٹر سیمی ایزدی کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کے عہدیدار نے گلوف ٹو منصوبہ پر بریفنگ دی اور بتایا کہ 24 وادیوں میں 250 میٹیگیشن اسٹرکچر تعمیر کیے جا رہے ہیں، 7 میٹیگیشن اسٹرکچر مکمل ہو چکے ہیں، جب کہ 90 اسٹرکچر کا کام 60 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔

حکام وزارت موسمیاتی تبدیلی نے بتایا کہ تمام وادیوں میں دو دو حفاظتی مقامات تعمیر کیے جا رہے ہیں، گلیشیرز کے مقامات پر شجرکاری کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے، گلوف ٹو منصوبے میں مقامی انتظامیہ کو خود مختار بنا رہے ہیں، آبپاشی کے نظام کو بحال کیا جا رہا ہے تاکہ پانی کا بہاؤ کے تقسیم کیا جا سکے۔

اجلاس میں ہنزہ میں گلیشئر پگھلنے کے معاملے پر بحث کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا تھا کہ شسپر لیک کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے ہمیں وارننگ تک نہیں دی۔ جس کے جواب میں ڈی جی محکمہ موسمیات نے کہا کہ 15 فروری کو ہم نے شسپر کی وارننگ رپورٹ ایشو کی تھی، یہ رپورٹ ہم نے تمام اداروں کو بھجوا دی تھی، ہم نے وارننگ لیٹر وزارت موسمیاتی تبدیلی کو بھی لکھا۔ چیئرپرسن کمیٹی نے استفسار کیا کہ  اگر شسپر لیک پگھلنے کے بارے محکمہ موسمیات نے وارننگ لیٹر لکھا تو وہ کہاں گیا۔

اجلاس میں حکام وزارت موسمیاتی تبدیلی نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں گلگت بلتستان (جی بی) اور خیبرپختوان خوا 70 لاکھ افراد رسک پر ہیں، 2017 تک 3 ہزار سے زائد گلیشئر لیک بن چکے ہیں، اور شسپر تین سال سے پگھل رہا ہے، شسپر پر ارلی وارننگ سسٹم لگا ہوا ہے جس کے ڈیٹا سے معلوم ہوا تھا کہ پانی کا لیول بڑھ رہا ہے۔

سینٹر شیری رحمان نے کہا کہ برفانی جھلیں کے پھٹنے کے معاملہ کی تحقیقات ہونی چاہیے، اس معاملہ پر چیف سیکرٹری گگلت بلتستان سے بھی جواب طلب کیا جانا چاہیے، وارننگ جاری ہونے کے باوجود قبل ازوقت اقدامات کیوں نہیں اٹھائے گئے۔ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے بتایا کہ پل کے گرنے وجہ تجاوزات بھی ہے، تجاوزات کے خلاف کاروائی ناگزیر ہے۔ حکام موسمیاتی تبدیلی نے انکشاف کیا کہ اس مرتبہ مارچ اور اپریل میں درجہ حرارت 3 سے 6 ڈگری تک اوپر چلا گیا، اسٹڈیز کے مطابق 2025 تک ہم پانی کی شدید قلت والا ملک بن جائیں گے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شہری رحمان کا کہنا تھا کہ ہیٹ ویو اور گلیشئر کا پگھلنا غیر متوقع نہیں بلکہ یقینی ماحو لیاتی آفات ہے، گزرتے دنوں کے ساتھ ہیٹ ویو مزید بڑھے گی اور گلیشئر پگھلیں گے، موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کے لیے قومی سلامتی کا مسئلہ بن گئیں ہیں، پاکستان کلائمنٹ چینج کونسل کی اس وقت اشد ضرورت ہے جس کی 4 سے کوئی میٹنگ نہیں ہوئی، پاکستان متواتر دنیا کے دس متاثر ممالک میں شامل ہے، جہاں پر قدرتی آفات مسلسل رونما ہورہی ہیں، پاکستان میں پالیسیاں بن جاتی ہیں لیکن عملدرآمد نہیں ہوتا، ہمیں قومی سطح ملک گیر عوامی آگاہی مہم چلانا ہوگی جس کا مقصد پانی بچانا ہے، آگاہی مہم کے لیے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی جائے گی، ٹن بلیں ٹری سونامی منصوبے کی آڈٹ رپورٹ طلب کر لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے