پاکستان میں زراعت اور لائیوسٹاک کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرانا وقت کی ضرورت ہے، عالمی بینک

اسلام آباد (لائیوسٹاک پاکستان) پاکستان میں زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبہ سے وابستہ افراد اورکاروبارکو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرانا وقت کی ضرورت ہے ، زراعت اورلائیوسٹاک کے شعبہ جات میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے موسمیاتی حوالہ سے موزوں زراعت کو فروغ دیا جاسکتاہے۔ عالمی بینک کی جانب سے جاری ایک آرٹیکل میں کہاگیاہے کہ پاکستان کو خوراک، زراعت اورلائیوسٹاک کے نظام کو زیادہ ذمہ دار، لچکدار اور موثر بنانے کے لیے ان شعبہ جات میں دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔

معاشی طورپرکمزور گھرانوں کی بہتر اورموثر شناخت ، سماجی تحفظ سے فائدہ اٹھانے والوں کی درست نشاندہی اورسماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں اثرپذیری کی نگرانی کے لیے سرکاری اداکاروں، نجی شعبہ ،سول سوسائٹی اور امدادی وفلاحی تنظیموں کے درمیان تعاون وقت کی ضرورت ہے ۔

مضمون میں پاکستان کی دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں خوراک کی عدم تحفظ کے مسئلہ کواجاگرکیاگیاہے اوران سے نمٹنے کیلئے شعبہ جاتی مداخلتوں کے ذریعے پیداوار، پروسیسنگ، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور مارکیٹنگ کو بہتر بنانے کی ضرورت پرزوردیاگیاہے ۔ عالمی بینکنے کہاہے کہ پاکستان میں لائیوسٹاک کا شعبہ وسیع ہے ، حکومت کو مویشیوں کی عام بیماریوں کے خلاف ویکسینیشن مہم کو بڑھانے ، مویشیوں کی کالونیوں کے قیام،آپریشنز کے لیے بہتر ضابطے وضع کرنے اور رپورٹنگ کے نظام کے لیے ادارہ جاتی صلاحیتوں اور پروٹوکول کو فروغ دیکر اس شعبہ کو معاونت فراہم کرنا ہوگی۔ عالمی بینک کے مضمون میں کوویڈ19 کے دوران پاکستان میں یومیہ اجرت پرکام کرنے والوں کی آمدنی اورخوراک کے اعدادوشماربھی دئیے گئے ہیں۔مضمون میں بتایاگیاہے کہ کوویڈ19 لاک ڈاون کے دوران یومیہ اجرت پرکام کرنے والے مزدوروں اورکارکنوں پرشدیددبائو رہاہے، انہیں روزگارکے تحفظ کے حوالہ سے خدشات لاحق رہے۔ عالمی بینک نے کہاہے کہ ایک اندازے کے مطابق 50 فیصد آبادی نے کم یا کم معیار کا کھانا کھایا۔ اپریل سے لیکرجولائی 2020 تک کی مدت میں 40 فیصدشہریوں کو اعتدال سے لے کر شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑا۔لاک ڈائون اور منڈیوں میں رکاوٹوں کی وجہ سے زراعت کا شعبہ بھی متاثر ہوا تاہم زیادہ درآمدات نے صارفین کیلئے ضروری غذائی اشیا کی فراہمی میں معاونت فراہم کی ، 2020 میں گندم کی درآمدات 3.6 ملین ٹن تک پہنچ گئی ۔ دوسری طرف گوشت، دودھ، پھلوں اور سبزیوں جیسی غذائیت سے بھرپور اور جلدخراب ہونے والی مصنوعات کی مارکیٹیں زیادہ نازک ثابت ہوئی ہیں جس میں پیداکنندگان اور صارفین دونوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔