پاکستان میں گیس کا بڑا ذخیرہ دریافت کر لیا گیا

سندھ کے لطیف بلاک موہر ون پر گیس دیارفت کی گئی، دریافت سے ملک کی توانائی کی ضرورت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی

اسلام آباد (لائیوسٹاک پاکستان) پی پی ایل نے صوبہ سندھ میں گیس کا بڑا ذخیرہ دریافت کر لیا۔موہر دن کنویں سے یومیہ 14.3 ایم ایم ایس سی ایف سی گیس ملے گی۔اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے سندھ کے لطیف بلاک موہر ون پر گیس دریارفت کر لی کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لطیف بلاک موہر، ون کونیں کی 12 ہزار ایک سو گیارہ فٹ گہرائی تک کھدوائی کی گئی ہے جس میں یومیہ چودہ اعشاریہ ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس ملے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لطیف موہر ون کی دریافت جوائنٹ وینچر کا نتیجہ ہے،دریافت سے ملک کی توانائی کی ضرورت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور ملک کے ہائیڈرو کاربن کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو گا۔پی پی ایل کے مطابق منصوبے میں پی پی ایل، ای این آئی، یو ای پی ایل کے 33.3 فیصد کے شئیرز ہیں۔

یاد رہے گذشتہ سال جنوری میں پاکستان میں تیل اور گیس کی دریافت سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی ، رپورٹ کے مطابق گذشتہ مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں تیل کی پیداوار میں 6 فیصد کمی ہوئی۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں گیس کی پیداوار میں 4 فیصد کمی ہوئی، دوسری سہ ماہی میں 5 آئل فیلڈز اور 4 گیس فیلڈز شامل ہوئیں۔ خام تیل کی پیداوار 6 فیصد کمی سے 76 ہزار 331 بیرل یومیہ پر آگئی۔ رپورٹ کے مطابق مردان خیل اور مکوڑی آئل فیلڈز سے پیداوار میں کمی سے خام تیل کی پیدوار میں پچھلے سال کے مقابلے میں 6 فیصد کمی ہوئی، چندا، مرم زئی اور مکوڑی ایسٹ سے خام تیل کی پیداوار میں 5 سے 46 فیصد تک اضافہ ہوا۔رواں مالی کی دوسری سہ ماہی میں گیس کی پیداوار 4 فیصد کم ہو کر 3 ہزار 409 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی، کنڈھ کوٹ اور قادر پور گیس فیلڈ سے 6 سے 18 فیصد ہیداوار میں کمی ہوئی، 4 نئی گیس فیلڈز سے 20 ایم ایم سی ایف ڈی اضافی گیس سسٹم میں شامل ہوئی۔ واضح رہے کہ رواں برس وزیراعظم کے مشیر برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا تھا کہ اگر ملک میں قدرتی گیس کے نئے ذخائر دریافت نہ ہوئے تو موجودہ ذخائر 12 برس میں ختم ہوجائیں گے۔کراچی میں سیمینار سے خطاب کے دوران ندیم بابر نے کہا کہ دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ کا نظام بھی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ’دنیا بھر کی کمپنیاں 2040 کے بعد پیٹرول انجن گاڑیاں بنانا بند کردیں گی۔ ‘انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کا صرف توانائی کا امپورٹ بل 16ارب ڈالر پر مشتمل ہے جو مجموعی درآمد کا 40 فیصد ہے۔ ’حکومت نے دو سال میں 25 بلاکس تیل و گیس کمپنیز کو تلاش کے لیے دیے ہیں جبکہ اگلے سال میں مزید 15 بلاکس نیلام کیے جائیں گے۔

ان نئے بلاکس کے نتائج آئندہ چند برسوں بعد نظر آئیں گے۔‘ندیم بابر نے کہا کہ دنیا میں توانائی کی پیداوار کے لیے کوئلہ بنیادی ضرورت تھی لیکن ہم نے دس سال پہلے تک کوئلے سے بجلی کی پیدوار شروع ہی نہیں کی تھی۔ ’آج تھر سے پیداوار شروع ہونے کے بعد 17 فیصد بجلی کی پیدوار ہو رہی ہے،تھر سے ہمیں صرف بجلی نہیں بلکہ تیل اور گیس کے لیے بھی کام کرنا ہے، صنعتی شعبے کے برعکس سی این جی کو مقامی گیس کی ترسیل نامناسب ہے۔تاہم اب خیبرپختونخواہ میں تیل اور گیس کی دریافت ہونا ایک بڑی پیش رفت ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے