خشک آلو پاؤڈر جانوروں کی خوراک میں سستی توانائی کے طور پراستعمال کیا جاسکتا ہے

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی ) زرعی یو نیو رسٹی فیصل آباد میں جانوروں کی خوراک میں مسترد آلو کھلانے کی صلا حیت پر تجربے سے معلوم ہوا کہ خشک آلو پاو¿ڈر جانوروں کی خوراک کی تشکیل میں سستی توانائی کے منبع کے طور پر کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے اور جانوروں کی کارکردگی پر کسی منفی اثر کے بغیرونڈے میں 30فیصد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔جس سے جانوروں کو سستی خوراک کی فراہمی میں مدد ملے گی۔پروجیکٹ (مسترد شدہ آلو کا جانوروں کی خوراک میں استعمال)پاکستان سائنس فاو¿نڈیشن کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔ پراجیکٹ کا دورہ کرتے ہوئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ پاکستان میں مویشیوں کے لئے فیڈوسائل کی فراہمی اور طلب کے مابین ایک بڑا فرق ہے۔اس غذائی قلت کو پورا کرنے کے لئے فیڈسٹف (Feedstuffs) کو دستیاب کرنا ناگزیر ہے غیر روائیتی خوراک کے وسائل کی فراہمی اور اس کے اضافے کے لئے کاوشیں بروئے کار لانی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی جدتوں کو اپنا کر غذائی خودکفالت اور زراعت کے چیلنجز سے نبردآزما ہوا جا سکتا ہے۔ زرعی یونیورسٹی کو برصغیر کی پہلی زرعی دانش گاہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے جو کہ 115سالوں سے تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی، پیداواریت میں اضافہ اور کاشتکاروں کو جدید طریقہ کاشت سے روشناس کرانے کے لئے کوشاں ہے۔ ڈاکٹر محمد شریف نے بتایا کہ جانوروں کے غیر روائیتی خوراک کے ذرائع میں چقندر کا گودا،مالٹے کا گودا، پولٹری کا فضلہ،کچن کا کچرااور مسترد کردہ آلوشامل ہیں جو کہ توانائی، پروٹین اور منرل سے بھرپورہے۔ انہوں نے کہا کہ آلو کی عالمی سطح پر اس کی پیداوار 374ملین ٹن سے تجاوز کر گئی ہے اور پاکستان میں 4.6ملین ٹن ہے۔ کچھ آلو چھوٹے سائز کی وجہ سے مارکیٹنگ کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ یہ مسترد کردہ آلو پاکستان میں وافر مقدار میں موجود ہے اور اس کو خشک کرنے کے بعد جانوروں کی خوراک میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروسیسنگ کے اہم اجزاءمیں آلو کو دھونا،چھلکے اتارنا، تراشنا، ٹکڑے کرنا، خشک کرنا،فرائنگ کرنا،ڈی آئلنگ اور پیکنگ کرنا بنیادی اقدامات ہیں۔اس سے ہمیں پروسیسنگ ویسٹ (processing waste) حاصل ہوتا ہے جسے ہم جانوروں کی خوراک میں استعمال کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قمربلال نے کہا کہ خشک آلو پاو¿ڈر دوسرے اناج کے مقابلے میں ایک سستا توانائی کا ذریعہ ہے اور اسے جانوروں کی خوراک میں متبادل اناج کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی جدید علوم سے آراستہ تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کر رہی ہے تاکہ زرعی اور لائیوسٹاک کی ترقی کو نئی جدتوں سے ہمکنار کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی سرسبز جمالیاتی حسن اور جاذب نظر لینڈسکیپ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اپنا مقام رکھتی ہے۔ 10بلین ٹری پروگرام کے تحت جامعہ زرعیہ میں ہزاروں نئے پودے لگائے گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے