پولٹری ایسو سی ایشن کا منی بجٹ میں ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ

لاہور(کامرس ڈیسک) ڈاکٹر عبدالکریم ، وائس چیئرمین پی پی اے (نارتھ ریجن ) نے الیکٹرانک اور پریس میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا۔ کہ پاکستان پولٹری انڈسٹری جو کہ مرغی کے گوشت اور انڈوں کی شکل میں پاکستانی عوام کو اعلیٰ معیار کی پروٹین والی خوراک انتہائی مناسب قیمت پر فراہم کرتی ہے۔ چکن کی مصنوعات کی قیمتوں کا تعین خالصتاً مارکیٹ کی ڈیمانڈ و سپلائی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس طرح بعض اوقات چکن کی مصنوعات کی قیمتیں فارمرز کی پیداواری لاگت سے کم ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی پراڈکٹ کو اپنی پیداواری لاگت سے کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور نتیجہً نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کم اور زیادہ قیمتوں کا یہ رجحان ، اوسط سالانہ قیمت حاصل کرنے میں فارمر کی کاروبار میں مدد کرتا ہے۔ جو اس کی ان پٹ لاگت سے قدرے بہتر ہو سکتی ہے، جہاں وہ کچھ منافع کمانے کے قابل ہوتا ہے بشرطیکہ اس کی کارکردگی اچھی رہے۔حال ہی میں، وفاقی کابینہ نے ایک ضمنی بجٹ کی منظوری دی ہے جس میں انہوں نے پولٹری سیکٹر میں سیلز ٹیکس پر چھوٹ واپس لے لی اور آئی ایم ایف سے فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے مالی سختی کے اقدامات کے حصے کے طور پر نئی ڈیوٹیز عائد کیں ہیں۔حکومت نے 150 سے زائد اشیاء پر 343 ارب روپے مالیت کا 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ جن میں گرینڈ پیرنٹ مرغیاں اور انڈے، پولٹری سیکٹر کے زیر استعمال مشینری، برانڈڈ چکن کا گوشت، فارماسیوٹیکل کا خام مال اور سورج مُکھّی/کینولا کے بیج بھی شامل ہیں۔ وائس چئیرمین نے آگے بڑھنے کا طریقہ واضح کرتے ہوئے ، حکومت کو پولٹری سیکٹر کو بہتر کرنے اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کی تجویز دی اور ساتھ ان پٹ لاگت کو کم کرنے کی کوشش میں مذکورہ بالا تمام اشیاء پر سیلز ٹیکس اور امپورٹ ڈیوٹی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ پولٹری اشیاء پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ سے پیداواری لاگت پر سنگین اثر پڑے گا اور ایک بار پھر فارمرز کو نقصان پہنچے گا۔جس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی آئے گی اور بالآخر پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں طویل مدتی اضافے سے بدترین نقصان ہوگا۔ جس سے پیداوار اور مارکیٹ کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے ۔ وائس چیئرمین نے حکومت سے عاجزی سے درخواست کی کہ مذکورہ اشیاء پر سیلز ٹیکس نہ لگایا جائے اور پولٹری انڈسٹری کو ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے