پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق غذائی قلت کے خاتمہ کا منصوبہ پیش کردیا

کراچی: پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف خلیل ستار نے ملک میں غذائی قلت کو کم یا ختم کرنے، خوراک کی کمی سے بچوں میں ذہنی و جسمانی نشوونما کے مسائل پر قابو پانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق ایک جامع منصوبہ پیش کردیا ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے تخمینہ کے مطابق پاکستانی آبادی کا 43فیصد طبقہ خوراک کے لحاظ سے عدم تحفظ کا شکار ہے اور غذائی کمی کی بنیادی وجہ پروٹین والی غذاء کی شدید قلت ہے۔

خلیل ستار نے کہا کہ پروٹین کی اس قلت کو دور کرنے اور پولٹری مصنوعات کی پیداوار بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں پولٹری کے شعبہ کو فروغ دیا جائے۔ پولٹری کی پیداوار کو کم لاگت کے ذریعے سے تیزی سے بڑھانا ضروری ہے۔

پاکستان میں پولٹری سیکٹر گزشتہ چند سال سے سالانہ 8سے 10فیصد کی شرح نمو سے ترقی کرتے ہوئے مجموعی قومی پیداوار میں اہم حصہ ڈال رہا تھا تاہم منی بجٹ میں پولٹری مصنوعات پر مجوزہ ٹیکسز انڈسٹری کی جانب سے وزیر اعظم کے غذائی قلت کے خاتمے کے ویژن کی تکمیل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے اثرات کو زائل کرنے کا سبب بنیں گے۔ ستم ظریفی ہے کہ ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا یہ قدم ترقی کرتی ہوئی پولٹری انڈسٹری کو منفی نم کی جانب دھکیلنے کا کا ذریعہ بنے گا اور انڈسٹری سے حاصل ہونے والے محصولات میں بھی کمی کا سامنا ہوگا۔ وفاقی حکومت کی منی بجٹ تجاویز نے پولٹری سیکٹر کو مشکلات کا شکار کردیا ہے۔ منی بجٹ سے قبل ایک دن کا گرینڈ پیرنٹ چوزہ کی کاسٹ اینڈ فریٹ لاگت 54ڈالر تھی جس پر 3فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 2فیصد ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کی شکل میں مجموعی طور پر 486روپے کے محصولات وصول کیے جارہے تھے۔ مجوزہ منی بجٹ میں گرینڈ پیرنٹ چوزے پر سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد تجویز کی گئی ہے جو 1735روپے بنتی ہے اور سیلز ٹیکس میں اس اضافہ کے ساتھ کسٹم ڈیوٹی کو شامل کرکے ایک دن کے گرینڈ پیرنٹ چوزے پر ٹیکسوں کی مجموعی لاگت 2221روپے تک پہنچ جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ گرینڈ پیرنٹ چوزے کے بغیر پولٹری کی پیداوار ناممکن ہے۔ سیلز ٹیکس میں اضافہ سے ایک دن کے پیرنٹ اسٹاک چوزوں کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح پولٹری کی فیڈ موجودہ لاگت 86ہزار 200روپے فی ٹن ہے جس کے اجزاء پر عائد ڈیوٹیز اور سیلز ٹیکس لاگت کا 60فیصد ہیں جو 8000روپے فی ٹن بنتے ہیں جو فیڈ کی فارملیشن اور اقسام کے لحاظ سے تبدیل ہوتے رہتی ہے۔ مجوزہ منی بجٹ میں فیڈ کے خام میٹریل پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرکے 10فیصد سے 17فیصد کدی گئی جس سے فیڈ کی لاگت میں مزید 900روپے فی ٹن کا اضافہ ہوگا۔

خلیل ستار نے کہا کہ منی بجٹ میں مرغیوں کی ویکسین پر بھی دی جانے والی چھوٹ بھی ختم کردی گئی۔ گرینڈ پیرنٹ اور پیرنٹ اسٹاک پروڈکشن پر ویکسین اور ادویات کی لاگت 475روپے بنتی ہے اور سیلز ٹیکس میں اضافہ کے بعد اس میں مزید80سے 90روپے کا اضافہ ہوگا جو مہنگائی میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ منی بجٹ میں پولٹری انکوبیٹرز پر بھی 17فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا جس سے پولٹری کی صنعت کے توسیعی منصوبے متاثر ہوں گے جبکہ پولٹری فیڈ، یکیسن اور پولٹری مشینری پر ٹیکس کی لاگت بڑھنے سے ہر طرح کی پولٹری فارمنگ متاثر ہوگی جن میں گرینڈ پیرنٹ، پیرنٹ اسٹاک اور بوائلر فارمنگ اور پولٹری مصنوعات کی تیاری شامل ہیں جس کا نتیجہ پولٹری مصنوعات کی قیمتوں اور افراط زر میں اضافہ کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ منی بجٹ میں پراسیس چکن میٹ، پیک اور برانڈڈ مصنوعات پر 17فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے، اس اقدام سے غیرمنظم سیکٹر کو فائدہ ہوگا جس کی قیمت منظم اور دستاویزی سیکٹر ادا کرے گا۔ پرایس ملک سیکٹر کے لیے صفر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو برقرار رکھا گیا تاکہ صارفین کے مفاد کے لیے غیردستاویزی، غیر برانڈڈ اور کھلے دودھ کے مقابلے میں پرایس دودھ کے شعبہ کو مسابقت کے قابل بنایا جاسکے۔ خلیل ستار نے کہا کہ کھلے دودھ کے مقابلے میں پراسیس شدہ دودھ کی مسابقت بہتر بنانے کے لیے ٹیکس کی چھوٹ کا اصول پراسیس پولٹری پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔خلیل ستار نے کہا کہ پراسیس انڈسٹری پولٹری مصنوعات کی پیداوار کے لیے لیبر کی بھاری لاگت برداشت کرتی ہے جس میں سوشل سیکیوریٹی کا کنٹری بیشن، ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹس، ورکرز پارٹی سپیشن فنڈ، تربیتی ورکرز اور خصوصی افراد کو ادائیگیاں شامل ہیں۔

اس کے مقابلے میں پولٹری کے غیرمنظم کاروبار اور سڑکوں پر کھلی ہوئی دکانوں پر لیبر کی لاگت معمولی ہوتی ہے۔ پولٹری کا غیرمنظم کاروبار کسی قسم کا ٹیکس ادا نہیں کرتا جبکہ منظم شعبہ ہر طرح کے ٹیکس ادا کرکے محفوظ او صحت بخش مصنوعات تیار کرتا ہے۔ خلیل ستار نے کہا کہ پولٹری ان پٹس پر سیلز ٹیکس کا نفاذ اور اضافہ افراط زر میں اضافہ کا باعث بنے گا۔ گرینڈ پیرنٹس، پولٹری فیڈ کے اجزاء، پولٹری ویکسین، پولٹری اور فیڈ ملنگ مشینری اور ایکوپمنٹ، پراسیس، پیک شدہ اور برانڈڈ چکن کے گوشت پر سیلز ٹیکس میں اضافہ سپلائی میں کمی اور پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب بنے گا جن میں مرغی کے انڈے، زندہ مرغی حتی کہ برانڈڈ اور پیک شدہ پولٹری مصنوعات کے ساتھ کھلے بازار میں عام دکانوں پر فروخت ہونے والی مرغی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگا جو وزیر اعظم کے غذائی قلت کے خاتمہ کے ویژن کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولٹری کی پیداوار سے بھی دودھ کی پیداوار کی طرح یکساں برتاؤ کیا جائے جس کے لیے ٹیکسوں کا استثنی برقرار رکھا گیا ہے کیونکہ پولٹری پروٹین کی کمی کے فرق کو پورا کرنے کا ایک تیز رفتار اور سستا ذریعہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے