عوام کا عدم تعاون ،پنجاب میں مکمل لاک ڈائون کی تجویز زیرغور

لاہور(جوادآراعوان)شہریوں کی جانب سے سمارٹ لاک ڈائون کے ایس او پیز کی خلاف ورزیاں جاری رہنے کی صورت میں مکمل لاک ڈائون کیا جا سکتا ہے ۔ٹاپ آفیشلز نے روزنامہ 92نیوز کو بتایا ہے کہ رمضان المبارک کے پیش نظر صوبے میں سمارٹ لاک ڈائون لانچ کیا گیا جس کے تحت صوبائی دارالحکومت اور تمام اضلاع میں بڑی ناکہ بندیاں ہٹانے کے علاوہ دیگر پابندیوں میں بھی نرمی کی گئی لیکن ایجنسیوں کی موصول ڈیلی سیچویشن رپورٹس(ڈی ایس آرز)سمارٹ لاک ڈائون کی خلاف ورزیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔خلاف ورزیاں بڑھنے سے کورونا نیشنل ایمرجنسی مہم کو پنجاب میں شد ید خطرات لاحق ہیں ،خلاف ورزیاں کورونا کے صوبے میں اپ ورڈ گراف میں خطرناک حد تک اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔اعلی سطح پر تجویز زیر غور ہے کہ سمارٹ لاک ڈائون کو صرف آزمائشی فیز میں رکھا جائے اور شہریوں کی جانب سے عدم تعاون کی صورت میں مکمل لاک ڈائون نافڈ کردیا جائے ۔یاد رہے سمارٹ لاک ڈائون سے قبل بھی مکمل لاک ڈائون نہیں بلکہ جزوی لاک ڈائون لانچ کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا گذشتہ روز سمارٹ لاک ڈائون کے دوران صوبائی دارالحکومت کو چار بڑے ریجنز اور سب ریجنز میں تقسیم کر کے لاک ڈائون کیا گیا تا کہ شہریوں کی غیر ضروری آمد ورفت کو کنٹرول کیا جا سکے اور انہیں سمارٹ لاک ڈائون کے ایس او پیز پر عمل کرنے کیلئے مجبور کیا جا سکے ۔ سمارٹ لاک ڈائون سے اگر مکمل لاک ڈائون کی طرف جانا پڑا تو ریجنز اور سب ریجنز کا فارمولا ستعمال کیا جا سکتا ہے ،اس فارمولے کے تحت شہر کے ایک ریجن سے دوسرے ریجن میں داخلے پر پابندی ہو گی جبکہ کسی انتہائی صورتحال جس میں ہسپتال ایمرجنسی شامل ہو گی ،کی صورت میں اپنے ریجن اور سب ریجن سے باہر آنے کی اجازت دی جائے گی،انہوں نے ریجن فارمولے کے بارے میں مزید بتایا کہ لاہور کے چار ریجنز میں شمال،جنوب،مشرق اور مغرب شامل ہوں گے اور اسی طرح ان کے سب ریجنز ہوں گے ،یہی فارمولا پورے صوبے میں لانچ کیا جا سکتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔