پنجاب میں 11 فیصد سے زیادہ کسانوں کو کسان کارڈجاری کیے جا چکے ہیں، ڈائریکٹر زراعت

ملتان(لائیوسٹاک پاکستان) حکومت کی طرف سے کسانوں کو دی جانے والی براہ راست سبسڈی کے حصول کے لئےاب تک پنجاب میں 11 فیصد سے زیادہ کسانوں کو کسان کارڈجاری کیے جا چکے ہیں۔ ۔کسان کارڈ کے اجراء کے حوالے سے ملتان سرفہرست ہے۔ ضلع میں 48 فیصد سے زیادہ کسانوں نے کسان کارڈ حاصل کر لیایے ۔ اسی طرح چنیوٹ 46 فیصد کسانوں کو کارڈ جاری کرنے کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق لیہ، مظفر گڑھ، حافظ آباد، لودھراں اور میانوالی کے اضلاع میں بھی 25 فیصد سے زائد کسانوں کو کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں ۔سرکاری ذرائع نے مزید بتایا کہ صوبہ پنجاب میں 5.2 ملین سے زیادہ کسان ہیں۔ تاہم رجسٹرڈ کسانوں کی تعداد 3.4 ملین ہے۔ کسانوں کی رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ کسان کارڈ کے اجراء کا عمل بھی جاری ہے۔

کسان کارڈ کی افادیت کے بارے میں ڈائریکٹر زراعت توسیع شہزاد صابر نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کارڈ ہولڈرز زرعی آلات اور دیگر مشینری پر دی جانے والی ہر قسم کی سبسڈی سے لطف اندوز ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسان اے ٹی ایم کے ذریعے براہ راست سبسڈی حاصل کریں گے۔کسان کارڈ کے اجراء کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ملتان ڈویژن میں کسانوں کو تقریباً ایک لاکھ کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔صوبائی سطح پر 560,499 کارڈ کسانوں کو د ئے گئے ہیں ۔ شہزاد  نے مزید بتایا کہ نومبر کے جاری مہینے کے دوران ملتان ڈویژن کے لیے 24,020 کسان کارڈ کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم 17 نومبر تک 12,691 کارڈ جاری کیے گئے ہیں  انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ بقیہ ہدف آسانی سے حاصل کر لیں گے۔کسان کارڈ بنانے کے طریقہ کار کے بارے میں ڈائریکٹر زراعت نے کہا کہ کسان کارڈ رجسٹرڈ کسانوں کو جاری کیے گئےہیں اورکسانوں کی رجسٹریشن کے لیے ایک خاص معیار ہے جس میں لینڈ ریکارڈ سنٹر، محکمہ زراعت اور نادرا شامل ہیں۔ رجسٹرڈ کسان کارڈ کے حصول کے لیے HBL-connect کی دکانوں پر جا رہے ہیں۔ چونکہ زیادہ تر کسان پہلے ہی محکمہ زراعت میں رجسٹرڈ تھے اس لیے وہ کارڈز کے اجراء کے لیے HBL کنیکٹ کی دکانوں پر جاسکتے ہیں۔انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد کسان کارڈ حاصل کریں تاکہ براہ راست سبسڈی کا فائدہ اٹھا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے